ایران کا پاکستان سے 10 ہزار ٹن باسمتی چاول درآمد کرنے پر اتفاق، زرعی برآمدات کو بڑا سہارا

0

پاکستان کا ایران کو دس ہزار ٹن باسمتی چاول برآمد کرنے کا معاہدہایران نے پاکستان سے 10 ہزار ٹن باسمتی چاول درآمد کرنے پر باضابطہ طور پر اتفاق کر لیا ہے، جسے ماہرین پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے سے نہ صرف پاکستانی چاول کی عالمی منڈی میں مانگ میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور ایران کے درمیان جاری تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی ایک کڑی ہے۔ باسمتی چاول پاکستان کی اہم زرعی برآمدات میں شامل ہے، جو اپنی خوشبو، ذائقے اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ ایران کی جانب سے اس مقدار میں باسمتی چاول درآمد کرنے کا فیصلہ پاکستانی کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے ایک بڑے اعتماد کا مظہر ہے۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں چاول کے کاشتکاروں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا، کیونکہ برآمدات میں اضافے سے مقامی سطح پر باسمتی چاول کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور کسانوں کو اپنی محنت کا بہتر معاوضہ مل سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں بھی مدد ملے گی، جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔

تجارتی حلقوں کے مطابق ایران کے ساتھ یہ معاہدہ مستقبل میں مزید بڑے آرڈرز کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک بھی پاکستانی باسمتی چاول کی درآمد میں دلچسپی لے سکتے ہیں، جس سے پاکستان کی زرعی برآمدات کو مزید فروغ ملے گا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات پہلے ہی مختلف شعبوں میں ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ اس نئے زرعی معاہدے سے دونوں ممالک کے اقتصادی روابط مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق زرعی تجارت کا فروغ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے زرعی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں معیار کو بہتر بنانا، برآمدی سہولیات فراہم کرنا اور نئی منڈیوں تک رسائی شامل ہے۔ ایران کے ساتھ باسمتی چاول کی برآمد کا یہ معاہدہ انہی پالیسیوں کا عملی مظہر ہے۔

دوسری جانب کسان تنظیموں نے بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت مستقبل میں زرعی شعبے کے لیے مزید ایسے اقدامات کرے گی، جن سے کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے تو دیہی معیشت مستحکم ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ باسمتی چاول کی برآمد نہ صرف زرعی شعبے بلکہ فوڈ پروسیسنگ، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس جیسے دیگر شعبوں پر بھی مثبت اثر ڈالے گی۔ اس طرح یہ معاہدہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

جدید ہتھیاروں سے لیس پاک بحریہ کی آبدوز غازی چین میں لانچ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *