ماڈرن پنجاب میں گورننس کا فیصلہ کن موڑ، کارکردگی جانچنے کے لیےماڈرن پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ قائم
ماڈرن پنجاب ویژن:
پنجاب میں پہلی بار سرکاری اداروں کی کارکردگی ناپنے کا مؤثر نظام متعارف
پنجاب حکومت کی جانب سے ماڈرن پنجاب گورننس کے قیام کی جانب ایک تاریخی اور فیصلہ کن پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں صوبائی حکومت نے عوامی مسائل کے مستقل حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ (PPMU) قائم کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت پہلی مرتبہ کھلے مین ہولز، آوارہ کتوں، اُبلتے نالوں، قبرستانوں کی حالت اور سرکاری اداروں کے اسٹاف افسران کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو درپیش روزمرہ مسائل کا بروقت حل یقینی بنانا اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش بنانا ہے۔ پنجاب حکومت کا ماننا ہے کہ گورننس میں بہتری کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسی لیے جدید ڈیٹا بیس، مانیٹرنگ سسٹمز اور کارکردگی کے اشاریے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کے ذریعے ہر سرکاری ادارے کو واضح اہداف دیے جائیں گے، جن کی بنیاد پر افسران اور عملے کی کارکردگی جانچی جائے گی۔ کھلے مین ہولز اور اُبلتے نالے جو شہری جانوں کے لیے خطرہ بنتے رہے ہیں، اب فوری رپورٹنگ اور ریسپانس سسٹم کے تحت آئیں گے۔ اسی طرح آوارہ کتوں کے مسئلے، قبرستانوں کی دیکھ بھال اور دیگر بلدیاتی امور پر بھی مستقل نگرانی رکھی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس یونٹ کے قیام سے شہری شکایات کو نظر انداز کرنے کی روایت کا خاتمہ ہوگا اور عوامی مسائل حل نہ کرنے والے افسران سے جواب طلبی ممکن ہو سکے گی۔ ہر محکمے کی کارکردگی کا ریکارڈ ڈیجیٹل بنیادوں پر محفوظ کیا جائے گا، جس سے شفافیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پنجاب میں گورننس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری اداروں میں جوابدہی بڑھے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نظام پر مؤثر عملدرآمد ہوا تو کھلے مین ہولز، ناقص صفائی اور بلدیاتی غفلت جیسے مسائل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ وزیراعلیٰ کے وژن کا عملی اظہار ہے، جس کا مقصد عوامی خدمت کو اولین ترجیح بنانا ہے۔ اس نظام کے تحت اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی جبکہ ناقص کارکردگی پر تادیبی کارروائی بھی کی جا سکے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اس طرز کا نگرانی اور احتساب کا نظام مستقبل میں دیگر صوبوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔ اگر شفافیت، ٹیکنالوجی اور جوابدہی کو یکجا کر لیا گیا تو پنجاب واقعی ماڈرن گورننس کی مثال بن سکتا ہے۔
مریم نواز کا پنجاب میں جدت کا انقلاب، راولپنڈی میں دوسرا آئی ٹی سٹی قائم کرنے کا اعلان
