چین اور پاکستان تعلقات پر پینٹاگون رپورٹ: چین عالمی اسلحہ سپلائر کے طور پر ابھرا، پاکستان چین کا سب سے بڑا شراکت دار

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے امریکی کانگریس کو پیش کی گئی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین تیزی سے ایک اہم عالمی اسلحہ فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ چین اور پاکستان تعلقات پر مبنی اس رپورٹ میں پاکستان کو چین کا سب سے اہم شراکت دار قرار دیا گیا ہے، خصوصاً جنگی ہوابازی (Combat Aviation) کے شعبے میں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان چین کے درمیان دفاعی تعاون محض خریدار اور فروخت کنندہ کا رشتہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو مشترکہ تحقیق، تیاری اور ترقی پر مبنی ہے۔
پینٹاگون رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جسے چین کے جدید J-10C لڑاکا طیارے فراہم کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مجموعی طور پر 36 J-10C طیاروں کا آرڈر دیا تھا، جن میں سے اب تک 20 طیارے پاکستان ایئر فورس کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ یہ طیارے جدید ریڈار سسٹمز، بہتر الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہیں، جو خطے میں طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں چین اور پاکستان کے درمیان مشترکہ طور پر تیار کیے گئے JF-17 تھنڈر کو بھی ایک کامیاب دفاعی منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔ JF-17 نہ صرف پاکستان ایئر فورس کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے بلکہ اب یہ طیارہ متعدد دیگر ممالک بھی استعمال کر رہے ہیں، جو اس منصوبے کی کامیابی اور عالمی منڈی میں اس کی قبولیت کا ثبوت ہے۔ پینٹاگون کے مطابق JF-17 پروگرام چین کی اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ کم لاگت مگر مؤثر دفاعی نظام تیار کر کے ترقی پذیر ممالک کو فراہم کرتا ہے۔
امریکی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کو جدید ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جن میں نگرانی اور ممکنہ طور پر حملہ آور صلاحیتوں کے حامل بغیر پائلٹ فضائی نظام شامل ہیں۔ یہ ڈرونز پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی اور سرحدی نگرانی جیسے شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین اس شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
علاوہ ازیں، چین نے پاکستان کو بحری پلیٹ فارمز بھی فراہم کیے ہیں، جن میں جدید جنگی جہاز اور دیگر بحری سازوسامان شامل ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ تعاون چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے بحری دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو خطے میں چین کے وسیع تر اسٹریٹجک مفادات سے جڑا ہوا ہے۔
پینٹاگون رپورٹ کے مطابق چین کی دفاعی برآمدات کی کامیابی کی بڑی وجوہات میں سستی قیمت، مشترکہ تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور لچکدار دفاعی تعاون شامل ہیں، جو اسے مغربی ممالک کے مقابلے میں ایک پرکشش متبادل بناتی ہیں۔ پاکستان اس حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں مثال ہے، جہاں چین نے محض ہتھیار فروخت کرنے کے بجائے دفاعی صنعت کی مقامی صلاحیت بڑھانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی شراکت داری مستقبل میں مزید گہری ہو سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر اسلحہ کی منڈی اور اسٹریٹجک توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔