دیانت داری کی اعلیٰ مثال: پاکستان ریلوے اہلکار نے 38 لاکھ روپے مسافر کو واپس لوٹا دیے
پاکستان ریلوے نظام میں ایمانداری کی روشن مثال، مسافر نے اہلکار کو خراجِ تحسین پیش کر دیا
کراچی / حیدرآباد / روہڑی:
پاکستان ریلوے میں دیانت داری کی ایک شاندار مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک مسافر کا قیمتی سامان، جس میں قریباً 38 لاکھ روپے نقدی موجود تھی، ٹرین میں رہ جانے کے باوجود بحفاظت اس کے مالک تک پہنچا دیا گیا۔ پاکستان ریلوے کے مطابق یہ واقعہ جمعہ 26 دسمبر 2025 کو پیش آیا، جب مسافر محسن مشتاق پاکستان ایکسپریس کے ذریعے کراچی سے ٹوبہ ٹیک سنگھ جا رہا تھا۔
ریلوے حکام کے مطابق ٹرین جب حیدرآباد اسٹیشن پہنچی تو مسافر محسن مشتاق کسی ذاتی کام کے باعث عارضی طور پر ٹرین سے اترا، تاہم اس دوران ٹرین روانہ ہو گئی اور اس کا سامان ٹرین میں ہی رہ گیا۔ سامان میں موجود بیگ میں بڑی رقم موجود تھی، جس کے باعث مسافر شدید پریشانی کا شکار ہو گیا۔
👮♂️ کانسٹیبل راؤ شریف کی دیانت داری
پاکستان ریلوے کے مطابق دورانِ ڈیوٹی کانسٹیبل راؤ شریف کو ٹرین میں ایک لاوارث بیگ ملا۔ اہلکار نے فوری طور پر بیگ کو اپنی تحویل میں لے کر محفوظ کر لیا اور اعلیٰ حکام کو اطلاع دی۔ اسی دوران مسافر محسن مشتاق نے ریلوے تھانے پہنچ کر اپنے سامان کے گم ہونے کی رپورٹ درج کروائی۔
🚆 قراقرم ایکسپریس کے ذریعے سامان کی واپسی
ریلوے حکام کے مطابق مسافر بعد ازاں قراقرم ایکسپریس کے ذریعے روہڑی پہنچا، جہاں ریلوے ہیلپ سینٹر پر سب انسپکٹر کی موجودگی میں مسافر نے اپنے بیگ کی مکمل شناخت کی۔ بیگ کھول کر رقم کی مکمل گنتی کی گئی، جس میں 38 لاکھ روپے مکمل اور صحیح حالت میں موجود پائے گئے۔ تصدیق کے بعد بیگ مسافر کے حوالے کر دیا گیا۔
👍 عوامی ردعمل اور تعریف
مسافر محسن مشتاق نے پاکستان ریلوے اور خاص طور پر کانسٹیبل راؤ شریف کی دیانت داری کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے اہلکار اداروں کی نیک نامی کا باعث بنتے ہیں۔ عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس واقعے کو پاکستان ریلوے کے مثبت تشخص کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
