طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل میں پیش رفت، دو مرکزی ملزمان بھارت فرار

0

عثمان ہادی قتل کیس میں نامزد دو ملزم بھارت فرار ہو گئے

عثمان ہادی قتل کیس:

تفصیلات کے مطابق ڈھاکا پولیس نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان بھارت فرار ہو چکے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے ضلع میمن سنگھ سے متصل حلواغاٹ بارڈر کے راستے غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس میں انہیں سہولت فراہم کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قتل کے بعد ملزمان نے فوری طور پر روپوشی اختیار کی اور سرحدی نیٹ ورک کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے، جس کے نتیجے میں اب تک کل 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے شوٹر اور دیگر ملزمان کو بھارت فرار ہونے میں لاجسٹک اور مالی معاونت فراہم کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

ڈھاکا پولیس نے بتایا کہ قتل کے محرکات، پس پردہ کردار اور ممکنہ منصوبہ بندی کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت میں موجود ملزمان کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی اور متعلقہ اداروں سے رابطے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

عثمان ہادی کے قتل کے بعد تعلیمی اداروں اور طلبہ تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی بھی مجرم کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *