پنجاب کا خوشحال کسان : کسان کارڈ پروگرام کے تحت 100 ارب روپے کے قرضے، کھاد کی فروخت میں 37 فیصد اضافہ
پنجاب کا خوشحال کسان
پنجاب میں زرعی شعبے کو مضبوط بنانے اور کسانوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے شروع کیا گیا کسان کارڈ پروگرام ایک بڑی کامیابی ثابت ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کسان کارڈ کے ذریعے اب تک 100 ارب روپے سے زائد کے قرضے کسانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں، جس سے صوبے بھر میں زرعی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کسانوں نے حاصل کردہ قرض کی رقم میں سے 47 ارب روپے صرف کھاد کی خریداری پر خرچ کیے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کسان اس سہولت کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔ کھاد کی بروقت دستیابی اور مالی سہولت کے باعث فصلوں کی دیکھ بھال بہتر ہوئی ہے، جس کے مثبت اثرات پیداوار پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق یوریا کھاد کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو زرعی سرگرمیوں میں تیزی اور کسانوں کے اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد کے استعمال میں اضافے سے زمین کی زرخیزی بہتر ہوئی ہے، جس سے مجموعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق معیاری بیج، مناسب مقدار میں کھاد اور موافق موسمی حالات کے باعث سال 2026 میں گندم کی پیداوار میں واضح بہتری متوقع ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو پنجاب نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کرے گا بلکہ زرعی برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ کسان کارڈ نے انہیں بروقت مالی سہولت فراہم کر کے ساہوکاروں پر انحصار کم کر دیا ہے، جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پروگرام پنجاب میں زرعی انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
