گرین لینڈ پر برطانیہ اور فرانس کی ڈنمارک کی حمایت،ٹرمپ کی دھمکیوں پر عالمی تشویش

0

گرین لینڈ کے معاملے پر برطانیہ اور فرانس کا ڈنمارک کی حمایت کا اعلان

گرین لینڈ پر برطانیہ اور فرانس کی ڈنمارک کی حمایت، ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک کے مؤقف کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام اور ڈنمارک کی قیادت کو حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اس حساس مسئلے پر ڈنمارک کی وزیراعظم کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی خطے یا علاقے کے مستقبل کا فیصلہ عوامی رائے اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرین لینڈ سے متعلق کسی بھی قسم کی دھمکی یا زبردستی عالمی امن اور سفارتی اصولوں کے منافی ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی گرین لینڈ کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدیں طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ، گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کے عوام کا ہے اور یہ فیصلہ انہی کا حق ہے کہ وہ اس خطے کے مستقبل کے بارے میں کیا طے کرتے ہیں۔

فرانسیسی ترجمان نے اس موقع پر وینزویلا کے حالیہ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک، بشمول فرانس، کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی مذمت کریں، اور فرانس ایسی خلاف ورزیوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق برطانیہ اور فرانس کے حالیہ بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یورپی طاقتیں خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عالمی قوانین کے اصولوں پر متحد ہیں۔ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت کے دوران گرین لینڈ کو اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ حالیہ عالمی ردِعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اب ایسے بیانات اور اقدامات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو عالمی امن اور خودمختاری کے اصولوں کے خلاف ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *