پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان جنگی طیاروں اور ڈرونز کے دفاعی معاہدے پر پیش رفت، ذرائع
پاکستان انڈونیشیا دفاعی معاہدہ
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان جنگی طیاروں اور جدید ڈرونز پر مشتمل ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس پیش رفت سے آگاہ تین سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں پاکستان کے تیار کردہ جنگی طیارے اور قاتل ڈرونز (Combat & Armed Drones) انڈونیشیا کو فروخت کیے جانے کا امکان ہے۔ اس ملاقات کی تصدیق انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع اور پاکستانی فوج دونوں نے کی ہے۔
پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے اس موقع پر پاکستان کے آرمی چیف سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون پر گفتگو کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان کی دفاعی صنعت عالمی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان اس وقت لیبیا کی نیشنل آرمی اور سوڈان کی فوج کے ساتھ بھی دفاعی خریداری کے مذاکرات میں مصروف ہے، جس کا مقصد خود کو ایک مضبوط علاقائی دفاعی سپلائر کے طور پر منوانا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستانی ساختہ JF-17 تھنڈر جنگی طیارے میں عالمی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس تنازع کے دوران پاک فضائیہ کی حکمتِ عملی اور آپریشنل کارکردگی نے بین الاقوامی دفاعی حلقوں کی توجہ حاصل کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے نہ صرف دفاعی برآمدات میں بڑا سنگِ میل ہوگا بلکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں پاکستان کے دفاعی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کرے گا۔
