انڈونیشیا پاکستان سے 40 سے زائد جے ایف-17 تھنڈر طیارے خریدنے کے قریب

جے ایف-17 تھنڈر
پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی کامیابی سامنے آ گئی ہے، جہاں انڈونیشیا نے پاکستان سے 40 سے زائد جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس ممکنہ معاہدے پر اہم پیش رفت ہو رہی ہے، جسے پاکستان کے لیے دفاعی اور معاشی سطح پر ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر ایک جدید، کم لاگت اور مؤثر ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے، جسے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (PAC) کامرہ نے چین کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس طیارے کی جنگی صلاحیت، جدید ایویونکس، میزائل سسٹمز اور قابلِ اعتماد کارکردگی نے عالمی سطح پر اس کی مانگ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود مگر فیصلہ کن کشیدگی کے دوران جے ایف-17 کی مؤثر کارکردگی نے عالمی دفاعی منڈی میں پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا، جس کے بعد متعدد ممالک نے پاکستانی دفاعی سازوسامان میں دلچسپی لینا شروع کی۔
انڈونیشیا، جو جنوب مشرقی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے، اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق، جے ایف-17 تھنڈر کی نسبتاً کم قیمت، جدید ٹیکنالوجی اور آسان مینٹیننس نے اسے انڈونیشیا کے لیے ایک موزوں انتخاب بنا دیا ہے۔
اس ممکنہ معاہدے میں صرف طیاروں کی فروخت ہی نہیں بلکہ پائلٹس کی تربیت، تکنیکی تعاون، سپیئر پارٹس اور مشترکہ دفاعی اشتراک بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔ اگر یہ سودا طے پا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کو اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا، جبکہ مقامی دفاعی صنعت، روزگار اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے شعبوں کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔ یہ پیش رفت پاکستان کو مسلم دنیا اور ترقی پذیر ممالک میں دفاعی ٹیکنالوجی کے ایک قابلِ اعتماد مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے گی۔