پاکستان گڈانی شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری کو 2 ارب ڈالر تک وسعت دینے کے لیے متحرک، گڈانی کو جدید ماڈل بنانے کا فیصلہ
گڈانی شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری یارڈ کی جدید کاری، سبز معیشت کی جانب اہم قدم
اسلام آباد:
پاکستان نے آئندہ دس برسوں میں اپنی شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری کو وسعت دے کر اسے 2 ارب ڈالر کی مارکیٹ میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے بلوچستان میں واقع گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی حکمتِ عملی کے تحت ہانگ کانگ انٹرنیشنل کنونشن (HKC) اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی سفارشات کو اپنایا جائے گا، تاکہ ماحولیاتی تحفظ، مزدوروں کی سلامتی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بنیادی ڈھانچے اور مزدوروں کی فلاح پر توجہ
حکام کے مطابق گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن میں جدید ہسپتال، اسکول، بہتر سڑکیں اور ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ یارڈز شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ہزاروں مزدوروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور صنعت میں کام کرنے والوں کے لیے محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ماضی میں شپ بریکنگ انڈسٹری کو جن مسائل کا سامنا رہا، ان کے حل کے لیے یہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔
عالمی سطح پر مواقع اور پاکستان کا کردار
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر آئندہ برسوں میں 15 ہزار سے زائد بحری جہاز ریٹائر ہونے جا رہے ہیں، جس سے شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری میں زبردست مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستان اس وقت دنیا کا تیسرا بڑا شپ ری سائیکلنگ مرکز ہے، اور حکومت کی نئی پالیسیوں کے ذریعے اس پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی معیار پر عملدرآمد سے نہ صرف ملکی ساکھ بہتر ہو گی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔
ماحول دوست پالیسی اور پائیدار ترقی
حکومتی منصوبے میں گرین پریکٹسز، حفاظتی معیارات اور سرکلر اسٹیل اکانومی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ جدید شپ ری سائیکلنگ کے ذریعے حاصل ہونے والا اسٹیل ملکی تعمیراتی اور صنعتی شعبے کے لیے سستا اور پائیدار ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گڈانی کو کامیابی سے جدید اور ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ حب میں تبدیل کر دیا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے۔
معاشی استحکام کی جانب ایک اور قدم
تجزیہ کاروں کے مطابق شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری کی توسیع پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام محض صنعتی ترقی تک محدود نہیں بلکہ پائیدار معاشی نمو اور ماحولیاتی تحفظ کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے
