پاکستان نے تاجکستان کو حلال گوشت کی برآمدات کا آغاز کر دیا، تجارتی تعلقات میں اہم پیش رفت

پاکستان نے وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان کو حلال گوشت کی برآمدات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف پاکستان کی حلال فوڈ انڈسٹری کو نئی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی ہے بلکہ وسطی ایشیا میں پاکستانی مصنوعات کے اعتماد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کامیابی میں پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر نے کلیدی کردار ادا کیا، جن کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان حلال گوشت کی برآمدات سے متعلق ضروری انتظامی اور تجارتی امور کو حتمی شکل دی گئی۔ تاجک حکام کی جانب سے پاکستانی حلال گوشت کے معیار اور مذہبی تقاضوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی مشرق وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک کو حلال گوشت برآمد کر رہا ہے، جبکہ اب تاجکستان کی منڈی میں داخلہ وسطی ایشیا میں تجارتی وسعت کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ تاجکستان میں حلال گوشت کی بڑھتی ہوئی طلب پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
تجارتی حلقوں کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی اور کسانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں قازقستان، ازبکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کو بھی پاکستانی حلال گوشت کی برآمدات کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت حلال فوڈ سرٹیفکیشن، کولڈ چین لاجسٹکس اور بین الاقوامی معیار کو مزید بہتر بنا کر پاکستان کو عالمی حلال فوڈ حب بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ تاجکستان کو حلال گوشت کی برآمدات کا آغاز اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ایران کا پاکستان سے 10 ہزار ٹن باسمتی چاول درآمد کرنے پر اتفاق، زرعی برآمدات کو بڑا سہارا