کراچی سٹی کورٹ میں ہنگامہ آرائی، توہینِ مذہب کیس میں پیشی کے دوران رجب بٹ پر وکلاء کا تشدد
رجب بٹ کیس:
کراچی سٹی کورٹ میں توہینِ مذہب کے ایک مقدمے میں پیشی کے موقع پر اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب وکلاء کے ایک گروہ نے ملزم رجب بٹ کو گھیر کر تشدد کا نشانہ بنا دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعہ عدالتی احاطے میں اس وقت پیش آیا جب رجب بٹ پیشی کے بعد کمرۂ عدالت سے باہر نکلا، اس دوران بعض وکلاء نے اسے روک لیا اور بات بڑھتے ہی ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق وکلاء نے رجب بٹ پر لاتوں، مکوں اور تھپڑوں کی برسات کر دی، جبکہ اس دوران اس کی شرٹ بھی پھاڑ دی گئی۔ اچانک پیش آنے والے اس واقعے سے عدالت میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا اور عدالتی کارروائیاں وقتی طور پر متاثر ہوئیں۔
🚨 پولیس اور سکیورٹی کی مداخلت
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سٹی کورٹ کی سکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا اور رجب بٹ کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے جبکہ سٹی کورٹ میں موجود سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔
⚖️ قانونی حلقوں کا ردعمل
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے احاطے میں اس طرح کا تشدد قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان ہے۔ بار کونسل کے بعض اراکین نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملزم کے خلاف فیصلہ صرف عدالت کا اختیار ہے، نہ کہ ہجوم یا افراد کا۔
🔍 تحقیقات کا آغاز
پولیس کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملوث افراد کی شناخت کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب سٹی کورٹ انتظامیہ نے بھی عدالتی سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
حیدرآباد میں افسوسناک واقعہ: 5 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق