پاکستانی دفاعی برآمدات میں بڑی پیش رفت،کئی ممالک خریداروں میں شامل

0

پاکستانی دفاعی برآمدات میں بڑی پیش رفت

12.5 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدوں پر پیش رفت، کئی ممالک خریداروں میں شامل

پاکستان دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کرنے جا رہا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق

پاکستانی دفاعی برآمدات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے

 پاکستان مختلف دوست ممالک کو تقریباً 12 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ اور دفاعی سازوسامان فروخت کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان سے اسلحہ خریدنے والے یا مذاکرات کرنے والے ممالک کی تفصیل کچھ یوں ہے:

 لیبیا

  • 4 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدنے کا امکان

  • معاہدہ زمینی اور دفاعی سازوسامان پر مشتمل ہو سکتا ہے

آذربائیجان

  • 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کے دفاعی معاہدے

  • JF-17 تھنڈر، ہتھیار، ٹریننگ اور سپورٹ پیکج شامل ہونے کا امکان

سعودی عرب

  • 2 ارب ڈالر کے سعودی قرض کو

  • JF-17 تھنڈر فائٹر طیاروں کی خریداری کے معاہدے میں تبدیل کیے جانے پر بات چیت

  • یہ اقدام پاکستان کے لیے مالی اور دفاعی دونوں لحاظ سے اہم ہوگا

سوڈان

  • 1 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدنے میں دلچسپی

 عراق

  • 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے دفاعی سازوسامان کی فروخت متوقع

 زمبابوے

  • 1 کروڑ ڈالر مالیت کے اسلحہ معاہدے پر پیش رفت

    دیگر ممالک بھی دلچسپی رکھتے ہیں

    ان بڑے معاہدوں کے علاوہ، دفاعی ذرائع کے مطابق:

    • بنگلادیش

    • میانمار

    • نائجیریا

    • مراکش

    • ترکیہ

    بھی پاکستان سے مختلف نوعیت کا دفاعی سازوسامان خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا ابتدائی مذاکرات جاری ہیں۔

    JF-17 تھنڈر: پاکستان کی دفاعی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی

    ماہرین کے مطابق پاکستان کی دفاعی برآمدات میں JF-17 تھنڈر مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ:

    • کم لاگت، جدید ٹیکنالوجی

    • آسان مینٹیننس

    • ہتھیار، ٹریننگ اور سپورٹ کا مکمل پیکج

    • پابندیوں سے نسبتاً محفوظ دفاعی پلیٹ فارم

    یہی خصوصیات اسے ترقی پذیر اور دوست ممالک کے لیے پرکشش بناتی ہیں۔

    معیشت پر مثبت اثرات

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدے حتمی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو:

    • پاکستان کو اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا

    • دفاعی صنعت میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے

    • عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی ساکھ مضبوط ہوگی

    • IMF پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے

    دفاعی خود انحصاری کی جانب اہم قدم

    یہ ممکنہ معاہدے اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اب صرف دفاعی صارف نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا دفاعی سپلائر بن چکا ہے، جو عالمی دفاعی مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *