مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان عالمی دفاعی طاقت کے طور پر ابھر گیا
پاک بھارت جنگ 2025
مئی 2025 کی پاک بھارت مختصر مگر فیصلہ کُن جنگ نے طاقت کے عالمی نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ اس معرکے میں پاکستان کی مؤثر حکمتِ عملی اور جدید عسکری صلاحیتوں نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں سٹریٹجک توازن بدل ڈالا بلکہ عالمِ اسلام میں بھی پاکستان کو ایک قائدانہ مقام پر لا کھڑا کیا۔ نتیجتاً مسلم دنیا کے متعدد ممالک نے دفاعی میدان میں اسلام آباد سے قریبی تعاون کو اپنی ترجیح بنا لیا ہے۔ لیبیا، سوڈان، ترکی، بنگلہ دیش، عراق اور سعودی عرب کے بعد اب انڈونیشیا نے بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی روابط کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی خواہش کا باضابطہ اظہار کر دیا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو ماضی قریب تک مغربی مارکیٹس یا روسی و چینی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے تھے، مگر مئی کی جنگ میں پاکستانی ساختہ ہتھیاروں کی کارکردگی نے اُن کے فیصلوں کا رخ بدل دیا۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع کی تفصیلی ملاقات اسی بدلتے رجحان کی تازہ مثال ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تربیتی اشتراک، دفاعی صنعت میں شراکت اور ادارہ جاتی روابط کو وسعت دینے پر اتفاق کیا، جبکہ خطے اور دنیا کی بدلتی سیکیورٹی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ دفاعی تعاون کی یہ پیش رفت محض سفارتی وعدوں تک محدود نہیں۔ معروف بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان جدید جے ایف-۱۷ لڑاکا طیاروں اور شاہپر ڈرونز کی ممکنہ فروخت کے ایک بڑے معاہدے پر پیش رفت کر رہے ہیں، جس کی مالیت درجنوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جے ایف-۱۷ کی حالیہ جنگ میں مؤثر کارکردگی اور نسبتاً کم لاگت نے اسے خطے کے نئے خریداروں کے لیے پرکشش بنا دیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت پہلے ہی بنگلہ دیش، لیبیا اور سوڈان کے ساتھ ڈرونز، ٹرینر جیٹ اور سمارٹ گولہ بارود کے سودوں کے آخری مراحل میں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ موجودہ قرض کو دفاعی سازوسامان میں تبدیل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس سے پاکستان کو نہ صرف زرِمبادلہ ملے گا بلکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید دوام ملے گا۔ مختصر یہ کہ مئی کی جنگ کے بعد ابھرتا ہوا یہ علاقائی سکیورٹی ڈھانچہ پاکستان کے لیے سفارتی، معاشی اور تکنیکی امکانات کا نیا دریچہ کھول چکا ہے۔ اگر اسلام آباد اپنی تحقیق و ترقی اور برآمدی صلاحیتوں کو مسلسل وسعت دیتا رہا تو وہ نہ صرف مسلم دنیا بلکہ دیگر ترقی پذیر ریاستوں کی دفاعی ضروریات کا مرکزی نگران بن سکتا ہے۔ انڈونیشیا کے حالیہ اشارے نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی عسکری برانڈ ویلیو اب ایک عارضی رجحان نہیں، بلکہ عالمی دفاعی منڈی کا مستقل اور باوقار حوالہ بنتی جا رہی ہے۔
