سندھ کے آبی بحران کا حل: سوان ڈیم اور انڈس-سوان لنک کینال
سوان ڈیم
پاکستان کا آبی بحران ہر گزرتے سال کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ سندھ ہے، جہاں پانی کی کمی نے زراعت، معیشت، صحت، ماحولیات اور سماجی ڈھانچے کو گہرے نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں ایک ایسا منصوبہ سامنے آ رہا ہے جو نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتا ہے — سوان ڈیم اور انڈس-سوان لنک کینال۔ یہ ایک عام تاثر ہے کہ شمالی علاقوں میں بننے والے ڈیم صرف پنجاب یا خیبرپختونخوا کے فائدے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سوان ڈیم پوٹھوہار کے مقام پر تعمیر ہو کر دریائے سندھ کے نظام میں اضافی پانی شامل کرے گا، پانی چھینے گا نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس منصوبے کو سندھ کے لیے غیر معمولی طور پر اہم بناتا ہے۔ سندھ کی زراعت اور شہروں کے لیے مستقل پانی آج سندھ کا دارومدار مکمل طور پر دریائے سندھ پر ہے، مگر پانی کی فراہمی موسمی ہے اور غیر یقینی بھی۔ سوان ڈیم اس مسئلے کا بنیادی حل فراہم کر سکتا ہے۔ یہ منصوبہ خشک خریف کے موسم میں سندھ کو اضافی پانی فراہم کرے گا، آبپاشی کو مستحکم بنائے گا اور دیہی و شہری علاقوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرے گا۔ سیلابی تباہی سے مضبوط تحفظ پاکستان میں آنے والے اکثر تباہ کن سیلابوں کا سب سے بڑا نقصان سندھ اٹھاتا ہے۔ مون سون کے دوران شمال سے آنے والے بے قابو پانی کے ریلے سندھ کو ڈبو دیتے ہیں۔ سوان ڈیم اضافی سیلابی پانی کو اوپر ہی محفوظ کر لے گا اور منظم انداز میں نیچے چھوڑے گا، جس سے سندھ کو ایک قدرتی حفاظتی ڈھال میسر آئے گی۔ انڈس ڈیلٹا کی بحالی — زندگی کی واپسی سندھ کا ساحلی علاقہ اور انڈس ڈیلٹا اس وقت شدید ماحولیاتی تباہی کا شکار ہیں۔ میٹھے پانی اور گاد کی کمی نے سمندر کو اندر تک دھکیل دیا ہے، زمینیں بنجر ہو چکی ہیں، مینگرووز ختم ہو رہے ہیں، اور ماہی گیر بے روزگار ہوتے جا رہے ہیں۔ سوان ڈیم سے اضافی پانی کے اخراج سے ڈیلٹا کو نئی زندگی مل سکتی ہے، نمکینیت کم ہوگی، ماہی گیری بحال ہوگی اور اندھا ڈولفن جیسی نایاب مخلوق کا مسکن محفوظ ہو گا۔ سستی بجلی، مضبوط معیشت سوان ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تربیلا سے چھ سے آٹھ گنا زیادہ ہو گی، جو پاکستان کو وافر اور سستی پن بجلی فراہم کرے گی۔ اس سے مہنگے نجی بجلی گھروں پر انحصار کم ہو گا، صنعت کو سستی توانائی ملے گی، اور عام آدمی کا بجلی بل کم ہو گا — جس کا براہِ راست فائدہ سندھ کی معیشت کو ہو گا۔ ماہی گیر، کسان اور فطرت کی بقا سندھ کے ساحلی اضلاع ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے ماہی گیر سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ سوان ڈیم دریائے سندھ میں بہاؤ بڑھا کر مچھلیوں کی افزائش، ڈولفن کی بقا اور آبی حیات کے پورے نظام کو بحال کر سکتا ہے۔ تربیلا کا تحفظ اور پانی کا دانشمندانہ انتظام تربیلا ڈیم مٹی بھرنے سے تیزی سے اپنی گنجائش کھو رہا ہے۔ سوان ڈیم متبادل ذخیرہ فراہم کر کے تربیلا پر دباؤ کم کرے گا، اس کی عمر بڑھائے گا اور سندھ کے لیے موسمِ گرما میں زیادہ پانی ممکن بنائے گا۔ قومی ہم آہنگی کی نئی مثال یہ منصوبہ صوبوں کے درمیان پانی کی لڑائی کا حل پیش کرتا ہے۔ یہ پانی بانٹنے کا نہیں بلکہ پانی بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ سندھ کو اسے مزاحمت کا نہیں بلکہ قیادت کا معاملہ بنانا چاہیے — تاکہ پاکستان میں ایک نئی آبی سوچ جنم لے۔ تلخ حقیقت: سندھ کا زیرِ زمین پانی ناقابلِ استعمال سندھ کے بیشتر علاقوں میں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، جبکہ شہروں کا 92 فیصد سیوریج بغیر صفائی کے دریاؤں میں جا رہا ہے۔ کم بہاؤ کے موسم میں یہی آلودگی پینے کے پانی کو زہر بنا دیتی ہے۔ سوان ڈیم کا مستقل بہاؤ ہی اس زہر کا واحد تریاق بن سکتا ہے۔ نتیجہ: سندھ کو قیادت کرنی چاہیے موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں صرف قدرتی دریائی بہاؤ پر انحصار خودکشی کے مترادف ہے۔ سندھ کو ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو پانی بڑھائیں، سیلاب روکیں، ڈیلٹا بچائیں، زراعت مضبوط کریں اور مستقبل محفوظ بنائیں۔ سوان ڈیم سندھ کے لیے خطرہ نہیں، نجات کا راستہ ہے۔ اگر یہ منصوبہ شفافیت اور قومی تعاون سے مکمل ہو گیا تو یہ صرف سندھ نہیں، پورے پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
