بھارت کا آبی دباؤ پاکستان کے لیے قدرتی واٹر ریچارج میں بدل گیا
بھارت کا آبی دباؤ اور پاکستان کو لاحق سنگین خطرات
بھارت کا آبی دباؤ اور دریاؤں کے بہاؤ پر کنٹرول کی پالیسی کو طویل عرصے سے پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم رواں سال کے مون سون میں قدرت نے اس صورتحال کو ایک غیر متوقع مگر مثبت رخ دے دیا۔ اس سال مشرقی دریاؤں میں آنے والے پانی کو ’’سپر فلڈ‘‘ کے بجائے ’’سپر ریچارج‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
راوی، ستلج اور چناب جیسے دریاؤں میں غیر معمولی پانی آنے سے نہ صرف یہ کہ وہ دریا جو برسوں سے مردہ یا نیم مردہ تصور کیے جا رہے تھے دوبارہ زندہ ہوئے، بلکہ ان کے کناروں اور ملحقہ علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مستقبل میں پانی کی قلت کے خلاف قدرتی دفاع ثابت ہو سکتی ہے۔
دریاؤں میں تیز بہاؤ کے باعث وہ سیوریج اور آلودگی بھی بڑی حد تک صاف ہو گئی جو دہائیوں سے پانی کے ساتھ بہہ رہی تھی۔ اس قدرتی صفائی کے نتیجے میں آبی حیات کی واپسی دیکھنے میں آئی، وہ مچھلیاں اور دیگر جاندار دوبارہ نظر آنے لگے جو طویل عرصے سے ناپید ہو چکے تھے۔
مزید یہ کہ رواں مون سون نے ایک اور اہم حقیقت واضح کر دی ہے کہ دریاؤں نے اپنے قدرتی راستوں اور علاقوں کی نشاندہی خود کر دی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ راوی، ستلج اور چناب کے ان نشاندہی شدہ علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے جوہڑ، تالاب، جھیلیں، پونڈنگ ایریاز اور سیلابی آبپاشی کے راستے قائم کیے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کو شہروں یا آباد علاقوں کی بجائے غیر آباد، بنجر زمینوں اور حتیٰ کہ صحرائی علاقوں کی طرف موڑنا ہوگا تاکہ یہ پانی ضائع ہونے کے بجائے زیرِ زمین ذخائر کو بھر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبی حیات کے تحفظ کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ یہ قدرتی بحالی عارضی نہ رہے بلکہ مستقل فائدہ دے۔
کیا پاکستان پانی کی جنگ ہارنے جا رہا ہے؟ شدید آبی بحران اور مستقبل کے خطرات
