پاکستان اس سال چین سے ففتھ جنریشن جے-35 طیارے حاصل کرے گا، بھارت پرانے رافیل پر انحصار کرنے پر مجبور

0

پاکستان ففتھ جنریشن جے-35 طیارہ حاصل کرنے جا رہا ہے

پاکستان جے-35 طیارے

 

پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں پاکستان رواں سال چین سے ففتھ جنریشن اسٹیلتھ لڑاکا طیارے جے-35 (J-35) حاصل کرنے جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت اب بھی چوتھی جنریشن کے پرانے رافیل طیاروں پر انحصار کر رہا ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق جے-35 جدید ریڈار سسٹمز، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، طویل رینج اور جدید الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں سے لیس ہے، جو پاکستان ایئر فورس کو خطے میں نمایاں تکنیکی برتری فراہم کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جے-35 کی شمولیت کے بعد پاکستان فضائی دفاع کے میدان میں چند منتخب ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔

ادھر بھارت کے لیے یہ خبر خاصی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ بھارتی فضائیہ اس وقت فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں پر انحصار کر رہی ہے، جنہیں دفاعی ماہرین اب ففتھ جنریشن کے مقابلے میں تکنیکی طور پر پیچھے تصور کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھارتی رافیل طیارے کو مار گرایا تھا، جس کے بعد بھارتی دفاعی حکمت عملی پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق جے-35 معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا اور دفاعی حلقوں میں مایوسی اور بے چینی کی فضا پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے جدید ففتھ جنریشن طیاروں کے حصول میں تاخیر خطے میں اس کی فضائی برتری کو کمزور کر سکتی ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی جے ایف-17 تھنڈر جیسے کامیاب منصوبوں کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے، جبکہ جے-35 کی شمولیت اس تعاون کو مزید وسعت دے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنائے گی بلکہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *