سفر میں روزہ چھوڑنے کا حکم کیا ہے؟

سفر میں روزہ چھوڑنے کا حکم
کیا مسافر سفر کی بنا پر روزہ چھوڑ سکتا ہے؟ شرعی رہنمائی
سوال
کیا مسافر سفر کی بنا پر روزہ چھوڑ سکتا ہے؟
جواب
اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان میں مسافر یا عارضی مریض کو عذر کی بنا پر روزہ چھوڑنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم قرآنِ کریم میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا:
’’اور اگر تم روزہ رکھ لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو‘‘
(سورۃ البقرہ: 184)اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کے لیے رخصت موجود ہے، لیکن اگر مشقت نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے۔
حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں
حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمیؓ نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا کہ وہ سفر میں بھی روزہ رکھتے ہیں اور کثرت سے روزے رکھنے والے ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’تمہیں اختیار ہے، چاہو تو روزہ رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو‘‘
(بخاری: 1943)اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ مسافر کو اختیار دیا گیا ہے۔
ہم مسئلہ: فدیہ یا قضا؟
مسافر یا عارضی مریض فدیہ دے کر روزے کی فرضیت سے سبکدوش نہیں ہو سکتے۔
سفر سے واپسی یا صحت یاب ہونے کے بعد چھوڑے گئے روزوں کی قضا لازم ہوگی۔
فدیہ صرف دائمی مریض یا ایسے شخص کے لیے ہے جو آئندہ بھی روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔
https://punjabnews.pk/world-news/6876/