تیزی سےبڑھتا ہوا پانی کا بحران اور بارشی پانی کو محفوظ کرنے کا انقلابی عمل

0

بارشی پانی کو بچانا : ایک انقلابی اور قابلِ عمل حل

 

پاکستان کو جتنے بھی سنگین مسائل درپیش ہیں، ان میں پانی کا بحران سرِفہرست ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مسائل ترقی یافتہ ممالک کو بھی درپیش تھے، لیکن انہوں نے ان کا حل ساٹھ ستر سال پہلے ہی ڈھونڈ لیا تھا۔ ہم آج بھی انہی کے بنائے ہوئے ماڈلز کو دیکھتے ضرور ہیں، مگر عمل کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا سیاسی نظام ہے جوہری ڈھانچہ ہے، جو انہی مسائل کی آڑ میں پروان چڑھتا اور قائم رہتا ہے۔

 

لیکن ایک حل ایسا بھی ہے جو سیاستدانوں، بیوروکریسی اور ٹینکر مافیاز کے بغیر، خود عوام اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہیں۔ اس کے لیے ہمیں دور نہیں جانا پڑے گا؛ بس جاپان، آسٹریلیا، جرمنی اور سنگاپور جیسے ممالک کی طرف دیکھنا کافی ہے۔

 

ان ممالک نے اپنی عوام کو ایک سادہ مگر انقلابی اصول پر متفق کر لیا ہے:

 

’’ہر گھر کی چھت پر گرنے والا ہر قطرہ بارش اسی گھر کی ذمہ داری ہے۔ اسے گلی، گٹر میں نہیں بہانا، بلکہ جمع کرنا اور استعمال کرنا ہے۔‘‘

 

نتیجہ؟

– شہروں میں سیلاب اور جل بھراؤ کا مسئلہ تقریباً ختم

– زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گرنے کے بجائے بڑھنا شروع

– پینے کے علاوہ ہر کام کے لیے بہترین معیار کا مفت پانی ہر گھر کو میسر

– ٹینکر مافیاز کا کاروبار خودبخود ختم

 

یہ ممالک کیسے کرتے ہیں؟

 

1. ہر نئے گھر کی تعمیر کے وقت رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

2. ہر گھر کی چھت سے پانی براہِ راست زیرِ زمین بڑے ٹینکوں میں جمع ہوتا ہے (عام طور پر 5,000 سے 20,000 لیٹر تک)۔

3. یہ پانی پہلے ایک فلیٹر سسٹم سے گزرتا ہے، پھر گھر میں استعمال ہوتا ہے:

– کپڑے دھونے

– گاڑی، صحن اور پودوں کو دھونا

– فلش ٹینک

– حتیٰ کہ کچھ ممالک میں اضافی فلٹریشن کے بعد پینے کے قابل بھی بنا لیا جاتا ہے

 

آسٹریلیا میں تو 2025 تک 60 فیصد سے زائد گھرانوں نے یہ سسٹم نصب کر رکھا ہے۔ ٹوکیو، برلن اور سنگاپور جیسے شہروں میں اب بارش کے پانی کو سڑک پر بہنے دینا قانوناً جرم ہے اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔

 

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد جیسے شہروں میں اگر صرف 30 فیصد گھرانے بھی یہ سسٹم لگا لیں تو:

– ٹینکر مافیاز کا دھندا بیٹھ جائے گا

– زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے بحال ہو گی

– ہر بارش کے موسم میں اربوں لیٹر پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ ہو جائے گا

– بجلی کا بل بھی کم ہو گا کیونکہ پانی اوپر کھینچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی

 

یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، نہ ہی اربوں روپے کا قومی پروجیکٹ ہے۔

یہ صرف ایک ذہنیت کا انقلاب ہے۔

ایک فیصلہ ہے کہ ”میری چھت کا پانی میری ذمہ داری ہے“۔

اگر جاپان اور آسٹریلیا کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟

اب بھی وقت ہے۔

اپنے گھر سے آغاز کریں۔

ایک چھوٹا سا ٹینک، چند پائپ اور ایک فلٹر۔

بس اتنا کافی ہے کہ آپ اپنے بچوں کو وہ پانی دے سکیں جو آنے والی نسلیں ڈھونڈتی پھریں گی۔

بارش اللہ کی رحمت ہے۔

اسے گٹر میں بہائیں نہیں، گھر میں جمع کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *