حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ اور سرنگوں کےانہدام کا مطالبہ ناقابلِ قبول اور ناجائز ہے، پاکستان

0

وزیر خارجہ اسحاق ڈار حماس کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے پر پاکستان کا مؤقف بیان کرتے ہوئے

پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے یا غزہ میں قائم سرنگوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کا مطالبہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے لڑانے کے مترادف ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

وزیر خارجہ کے مطابق، فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کا اجتماعی مسئلہ ہے، جس پر کسی بھی ایسے حل کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو فلسطینیوں کے بنیادی حقِ خودارادیت کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے مطالبات دراصل اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔

اسحاق ڈار نے زور دیا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران، ہزاروں معصوم شہریوں کی شہادتیں اور بنیادی سہولیات کی تباہی عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا واحد منصفانہ حل دو ریاستی حل ہے، جس کے تحت ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر سفارت کاری جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے، جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں اسحاق ڈار نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور اسرائیلی مظالم کا مستقل حل تلاش کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *