وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی کراچی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، پیپلز پارٹی ناراض ہو جاتی ہے: مصطفیٰ کمال
مصطفیٰ کمال کی پیپلز پارٹی پر شدید تنقید
وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں وزیراعظم کراچی کے لیے چاہ کر بھی مؤثر اقدامات نہیں کر سکتے کیونکہ اس صورت میں پیپلز پارٹی ناراض ہو جاتی ہے، جس کے باعث حکومت کو سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2018 میں عمران خان کی حکومت قائم ہوئی تو پیپلز پارٹی کو کھلی آزادی دے دی گئی۔ ان کے بقول، عمران خان کے چار سالہ دورِ حکومت میں پیپلز پارٹی سے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا اور صوبے میں جو چاہا وہ کرتی رہی۔
مصطفیٰ کمال نے موجودہ سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
“آپ جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو چاہے وہ کرے، ورنہ اگر وہ ناراض ہو گئی تو حکومت گر جائے گی۔”
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، مگر سیاسی مجبوریوں کے باعث شہر کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ حکمرانی سے نہ صرف عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے بلکہ ریاستی نظام پر اعتماد بھی کمزور ہو رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مصطفیٰ کمال کے یہ بیانات حکومتی اتحاد کی کمزوریوں اور کراچی کے انتظامی مسائل کو ایک بار پھر نمایاں کر رہے ہیں، جس سے ملکی سیاست میں نئی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔
