گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں پنجابی زبان و ادب کا لازمی کورس منظور
پنجاجی زبان و ادب کورس
گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد (GCWUF) نے پنجابی زبان و ادب کو بطور لازمی مضمون متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے، جسے تعلیمی، ثقافتی اور لسانی حلقوں میں ایک اہم اور تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد علاقائی زبانوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ طلبہ کو اپنی تہذیبی و ثقافتی شناخت سے جوڑنا ہے۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلہ وائس چانسلر کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں تعلیمی پالیسیوں، نصاب کی بہتری اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پنجابی نہ صرف پنجاب کی اکثریتی زبان ہے بلکہ یہ ایک بھرپور ادبی، تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حامل بھی ہے، جسے تعلیمی سطح پر مناسب مقام دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نئے فیصلے کے تحت پنجابی زبان و ادب کا یہ کورس تمام متعلقہ ڈگری پروگرامز کے لیے لازمی ہوگا۔ نصاب میں پنجابی زبان کی بنیادی ساخت، کلاسیکی و جدید پنجابی ادب، مشہور پنجابی شعرا و ادبا، لوک ادب، ثقافتی روایات اور زبان کی سماجی اہمیت جیسے موضوعات شامل کیے جائیں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس کورس سے طالبات کی لسانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور انہیں اپنی مادری زبان میں اظہارِ خیال کا بہتر موقع ملے گا۔
وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ علاقائی زبانیں کسی بھی قوم کی ثقافتی شناخت کی بنیاد ہوتی ہیں اور پنجابی زبان کو تعلیمی نظام میں شامل کرنا نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب قدم ہے بلکہ نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام پنجاب حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اس پالیسی سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد مقامی زبانوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف پنجابی زبان و ادب کو فروغ ملے گا بلکہ طلبہ میں لسانی تنوع، تخلیقی سوچ اور سماجی شعور بھی بڑھے گا۔ ماہرین کے مطابق مادری زبان میں تعلیم سے سیکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور طلبہ اپنے معاشرے کو زیادہ گہرائی سے سمجھ پاتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں پنجاب کی مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں میں علاقائی زبانوں کو نصاب کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، اور GCWUF کا یہ اقدام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس فیصلے کو طلبہ، اساتذہ اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔
