وزیر اعلی کسان کارڈ نے زرعی شعبے کی سمت بدل دی، 100 ارب روپے کے قرضے، یوریا کھاد کی فروخت میں تاریخی ریکارڈ

وزیر اعلی کسان کارڈ
وزیر اعلی کسان کارڈ کے پروگرام نے صوبے میں زراعت کی سمت کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ کسانوں کو بروقت مالی سہولت فراہم کرنے کے اس انقلابی منصوبے کے تحت اب تک 100 ارب روپے سے زائد کے قرضے کسان کارڈ کے ذریعے جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں کسان بڑے پیمانے پر کھاد، بیج اور دیگر زرعی مداخل کی خریداری کر رہے ہیں۔
محکمہ زراعت کے مطابق کسان کارڈ کے اجرا کے بعد کسانوں کی مالی مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے اور وہ بغیر کسی رکاوٹ کے جدید زرعی تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسانوں کو سود سے پاک یا کم شرح پر قرض فراہم کرنا، زرعی لاگت کم کرنا اور پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر کے مہینے میں یوریا کھاد کی فروخت نے پنجاب کی زرعی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ صرف ایک ماہ میں یوریا کھاد کی فروخت 13 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ریکارڈ فروخت کسان کارڈ کے ذریعے دستیاب مالی وسائل، کھاد کی بروقت فراہمی اور زرعی شعبے پر اعتماد کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد کی اس بلند سطح پر خریداری سے آئندہ فصلوں، بالخصوص گندم اور دیگر ربیع فصلوں کی پیداوار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ بہتر پیداوار نہ صرف کسانوں کی آمدن میں اضافے کا سبب بنے گی بلکہ ملکی غذائی تحفظ کو بھی مضبوط کرے گی۔
حکام کے مطابق کسان کارڈ پروگرام کے تحت شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ قرض کی رقم صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہو۔ کسانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کھاد اور دیگر زرعی اشیا کی خریداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ عملی طور پر کامیاب ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسان کارڈ زرعی ترقی، دیہی خوشحالی اور صوبے کی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے ثمرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہوں گے اور پنجاب زراعت کے میدان میں ایک نئی مثال قائم کرے گا۔