لاہور کے زمین دوز آبی قلعے: بارش کے پانی کے ذخیرے اور شہری سیلاب کنٹرول کا انقلابی منصوبہ

0

لاہور میں زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے والے ٹینکس پر جاری تعمیراتی کاملاہور میں زیر زمین پانی کے ذخیرے

لاہور کے زمین دوز آبی قلعے دُنیا میں سیلابی پانی کا سب سے بڑا زیرِ زمین قلعہ جاپان میں ہے جوکہ 70 میٹر گہرے پانچ ٹاورز پر مشتمل ہے۔ یہ آبی ٹاور اتنے بڑے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک ٹاور میں امریکہ کا مجسمہ آزادی یا خلائی شٹل سما سکتے ہیں ۔ یہ ٹاور آپس میں 6.3 کلومیٹر لمبی سیلابی پانی گزارنے والی سُرنگوں کے ذریعے ملے ہوئے ہیں جو ٹوکیو کے پانچ دریاؤں کی کیپیسٹی سے زائد ہونے والا پانی دریاوں سے باہر نکال لاتی ہیں۔ 13 سال کے کام کے بعد 2006 میں مکمل ہونے والا یہ دنیاکا سب سے بڑا فلڈ واٹر ڈائیورشن پراجیکٹ کہا جاتا ہے جو ایک گھنٹے میں 50 ملی میٹر تک ہونے والی بارش کو سنبھال سکتا ہے ( یعنی آدھے کلاؤڈ برسٹ کو)۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب لاہور شہر میں بارش کے پانی کو زیر زمین ذخیرہ کرنے کا ایک بڑا منصوبہ 15 فروری تک مکمل ہورہاہے۔ یہ ٹینکس بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے علاوہ مون سون کے دوران شہر میں فلڈ نگ کو کنٹرول کرنے اور لاہور شہر میں پانی کی سطح کو گرنے سے بچانے میں بھی مدد کریں گے۔ پچھلے سال لاہور میں تین اسٹوریج ٹینک لارنس گارڈن (باغ جناح)، کشمیر روڈ (الحمرا کمپلیکس کا لان) اور شیرانوالہ گیٹ پر مکمل ہوئے جن کی سٹوریج کیپیسٹی 66لاکھ گیلن تھی۔مزید 10 ٹینکوں پر کام گزشتہ سال ہی شروع کیا گیا تھا جس کی تکمیل کی مدت چھ سے آٹھ ماہ تھی۔ یہ ٹینک اس وقت قذافی اسٹیڈیم، ٹکا چوک (جوہر ٹاؤن)، مہران بلاک (علام اقبال ٹاؤن)، علی بلاک (گارڈن ٹاؤن)، شریف پارک (اچھرہ)، وارث روڈ (کوئینز روڈ، نزد مزنگ)، ریلوے اسٹیشن چوک، کریم پارک، کوپر روڈ اور تاج پورہ پر تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں۔ ان 10 تالابوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی کل گنجائش 2 کروڑ گیلن سے بھی زیادہ ہے۔ ہر ٹینک کے قریب ایک ایک پانی چُوس کنواں بھی بنایا جا رہا ہے تاکہ زمینی پانی کی سطح کو بلند کرنے کے لیے اس ٹینک سے پانی حاصل کیا جا سکے۔ قذافی سٹیڈیم کے زیر زمین پانی کے ٹینک پر تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے کوپر روڈ ٹینک 98 فیصد تکمیل کے قریب ہے کریم پارک ٹینک پر سول ورکس 97 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ گارڈن ٹاؤن کا ٹینک 96 فیصد مکمل ہو چکا ہے ۔ اقبال ٹاؤن کا 94 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ وارث روڈ اور ریلوے سٹیشن کے ٹینک 91 فیصد مکمل ہیں۔ تاج پورہ ٹینک 65 فیصد مکمل ہو چکا ہیں۔ شمع روڈ کے پانی کے ٹینک پر کام 45 فیصد ہے۔ لاہور میں ان زیرِزمین پانی کے ذخیروں کو ڈیزائن کرتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ یہ تین مقاصد کی تکمیل کریں: 1-سڑکوں سے زیادہ بارش کے دوران پانی کو نکالنا تاکہ ٹریفک کی رواں رہے 2-زیر زمین پانی کو ری چارج کرنے کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کریں اور: 3- ذخیرہ شدہ پانی کو باغبانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیاجائے تاکہ زیر زمین پانی پر بوجھ کو کم کرنا۔ آنے والے سال میں نہ صرف لاہور بلکہ دیگر شہروں میں بھی پانی ذخیرہ کرنے کے مزید ٹینک بنائے جائیں گے تاکہ بارش کے پانی کے بہتر انتظام اور شہری سیلاب میں کمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *