بسنت لاہور نے لاہور کی معیشت کو نئی زندگی دے دی، 4 سے 6 ارب روپے آمدنی کا تخمینہ
بسنت لاہور اور معیشت
لاہور میں منعقد ہونے والے بسنت کے رنگا رنگ تہوار نے نہ صرف شہر کو خوشیوں اور ثقافتی جوش سے بھر دیا بلکہ لاہور کی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا سہارا ثابت ہوا۔ مکمل بک شدہ ہوٹلوں، پرہجوم پروازوں، ہنگامہ خیز فوڈ اسٹالز، ٹرانسپورٹ سروسز، چھتوں پر ہونے والی تقریبات اور پتنگوں و ڈور کی ریکارڈ فروخت نے شہر بھر میں کاروباری سرگرمیوں کو عروج پر پہنچا دیا۔
بسنت کے تین روزہ تہوار کے دوران اندرونِ شہر سے لے کر جدید علاقوں تک ہوٹل انڈسٹری مکمل طور پر بک رہی۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں نے لاہور کی ثقافت، کھانوں اور بسنت کے روایتی ماحول سے بھرپور لطف اٹھایا۔ ایئرلائنز اور بس سروسز پر بھی رش دیکھنے میں آیا، جس سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں قائم عارضی کھانے پینے کے اسٹالز، موسیقی کی محفلیں، ڈھول کی تھاپ اور چھتوں پر منعقدہ نجی تقاریب نے ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ پتنگ بازی سے وابستہ چھوٹے تاجروں، کاریگروں، ڈور بنانے والوں، سپلائرز اور ریٹیلرز نے اس تہوار سے خاطر خواہ منافع کمایا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بسنت فیسٹیول سے مجموعی طور پر 4 سے 6 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے، جو سیاحت، تجارت اور مقامی کاروبار کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یہ آمدنی نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی کاروباری زنجیروں کے ذریعے منتقل ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بسنت جیسے ثقافتی میلوں کو بہتر منصوبہ بندی، بروقت اعلان اور محفوظ انتظامات کے ساتھ مستقل بنیادوں پر منعقد کیا جائے تو یہ تہوار ملکی معیشت، سیاحت اور روزگار کے لیے ایک پائیدار ذریعہ بن سکتے ہیں۔
بسنت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ثقافت، تفریح اور معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اور مثبت انداز میں منائے جانے والے تہوار نہ صرف خوشیاں بکھیرتے ہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے چولہے بھی جلاتے ہیں۔
