پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں اہم ترامیم منظور

زمین کا حق حقدار تک: پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں اہم ترامیم منظور
لاہور: حکومت پنجاب نے زمین کے معاملات میں شفافیت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے Punjab Land Revenue Act 1967 میں اہم ترامیم منظور کر لی ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد زمین کی ملکیت کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی قبضے کی منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام زمین کے تنازعات کے خاتمے، عدالتی بوجھ کم کرنے اور عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔
اہم ترامیم کی تفصیل
انتقال پر قبضہ کا اندراج
اب زمین کی منتقلی صرف کاغذی کارروائی نہیں رہے گی بلکہ ملکیت کے ساتھ ساتھ قبضے کا اندراج بھی لازمی ہوگا تاکہ اصل حقدار کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہو۔
تقسیم کے بعد فوری قبضے کی منتقلی
تاخیر سے بچنے کے لیے تقسیم کے فوراً بعد قبضے کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا جائے گا، جس سے برسوں پرانے تنازعات میں کمی آئے گی۔
کھیوٹوں کا اشتراک
تقسیم کے عمل کو آسان بنانے اور عوامی سہولت کے پیش نظر تقسیم کے دوران کھیوٹوں کے اشتراک کی اجازت دی جائے گی۔
ثالثی کمیٹی کا قیام
زمین سے متعلق تنازعات کے فوری حل کے لیے مقدمات ثالثی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے تاکہ عدالتی نظام پر دباؤ کم ہو اور فریقین کو جلد انصاف مل سکے۔
اپیل اور نگرانی کی مدت مقرر
اپیل اور نگرانی دائر کرنے کی مدت 30 دن مقرر کر دی گئی ہے جبکہ فیصلے کا اعلان بھی 30 دن کے اندر کرنا لازم ہوگا۔
ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCMS) کا قیام
کیسز کی سماعت کے لیے جدید الیکٹرانک نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ RCMS کے ذریعے سائلین گھر بیٹھے سماعت کی سہولت حاصل کر سکیں گے، جس سے شفافیت اور تیزی دونوں میں اضافہ ہوگا۔
زبانی انتقال پر پابندی
نئے قانون کے تحت وراثت اور رہن کے علاوہ زبانی انتقال پر پابندی ہوگی۔ زمین کے لین دین کے تمام معاملات رجسٹرڈ دستاویزات کے ذریعے ہی مکمل کیے جائیں گے۔
عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
-
زمین کے تنازعات میں واضح کمی
-
قبضہ اور ملکیت کے جھگڑوں کا خاتمہ
-
عدالتی نظام پر بوجھ میں کمی
-
آن لائن سماعت سے وقت اور اخراجات کی بچت
-
قانونی شفافیت اور ریکارڈ کی درستگی