صدیوں سے قائم ہمالیہ کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے؟گلوبل وارمنگ خطرے کا الارم

0
FB_IMG_1764506889371

ہمالیہ کے نیچے ارتعاش — زمین کسی خاموش سازش میں خود کو دو حصوں میں بانٹ رہی ہے

 

ہمالیہ… دنیا کی چھت، برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں، نیلی وادیوں کے سینے میں بسی ہوئی گہری خاموشی… بظاہر سب کچھ مستقل، اٹل اور غیر متبدل دکھائی دیتا ہے۔ مگر ان بلند پہاڑوں کے نیچے زمین کی تہوں میں ایک ایسا عمل جاری ہے جو نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ہماری زمین کی تاریخ کو ایک نئے باب میں داخل کر رہا ہے۔

 

ماہرینِ ارضیات بتاتے ہیں کہ بھارتی ٹیکٹونک پلیٹ، جس نے تقریباً ساٹھ ملین سال پہلے ہمالیہ کو جنم دیا تھا، اب بھی یوریشیا کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہ حرکت رکی نہیں، بلکہ اس رفتار سے جاری ہے کہ ہر سال ہمالیہ چند ملی میٹر مزید بلند ہو جاتا ہے۔ مگر اصل حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ یہ پلیٹ اپنے اندر سے ٹوٹ رہی ہے—ایسے گہرے مقام پر، جہاں انسان کی آنکھ نہیں پہنچ سکتی۔

 

یہ پلیٹ دو الگ تہوں پر مشتمل ہے۔ اوپری تہہ ہلکی اور تیرنے والی ہے، جو تبّت کے نیچے دبی ہوئی آہستگی سے آگے بڑھتی رہتی ہے، اور ہمالیہ کو مسلسل بلند کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن زیریں تہہ بہت بھاری ہے، اور اپنی اس بھاری پن کے سبب اوپری تہہ سے الگ ہو کر زمین کے گہرے میٹل میں عمودی رخ سے نیچے گر رہی ہے۔ اس عمل کو ماہرین “لیتهوسفیئر کا ٹوٹ کر اُکھڑ جانا” کہتے ہیں۔

 

جدید آلات کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ پلیٹ میں ایک لمبی، گہری دراڑ بھی موجود ہے—ایک ایسا شگاف جو پلیٹ کے کچھ حصے کو نیچے کھینچ کر لے جاتا ہے، جبکہ باقی حصہ اب بھی اپنی جگہ قائم رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے زمین کے اندر کسی نے فصیل میں دراڑ ڈال کر اسے خاموشی سے دو حصوں میں بانٹ دیا ہو۔

 

سوال یہ ہے کہ یہ سب دیکھا کیسے جا سکتا ہے؟ زمین کی تہوں میں چھپی حقیقتیں ہم تک زلزلے کی لہروں کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ تبّت کے نیچے نصب سینکڑوں سیسمک اسٹیشن زمین کے اندر ہونے والے ہر ارتعاش کو محسوس کرتے ہیں۔ ان لہروں کی رفتار اور زاویے بتاتے ہیں کہ زمین کے نیچے کون سی چٹان ٹھوس ہے، کون سی تہہ الگ ہو رہی ہے، اور کہاں گہرائی میں پرت نیچے کی طرف ڈوب رہی ہے۔

 

دوسرا سراغ تبّت کے گرم چشموں سے اٹھنے والی گیسوں نے دیا۔ ان چشموں میں ہیلیم-3 پایا گیا ہے—ایک نایاب گیس جو صرف زمین کے انتہائی گہرے میٹل سے آتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پلیٹ اس قدر ٹوٹ چکی ہے کہ گہرے اندر سے گرم مادہ اوپر آنے لگا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ زمین اپنے اندر نئی سرحدیں بنا رہی ہے۔

 

ہمالیہ کے نیچے یہ بے آواز طوفان برسوں اور صدیوں پر محیط ہے، مگر زمین کے وقت میں یہ لمحوں کی بات ہے۔ آج کے انسان کے لیے یہ پہاڑ مضبوط اور اٹل نظر آتے ہیں، مگر زمین کے لیے یہ ایک مسلسل بنتا، بگڑتا اور شکل بدلتا ہوا نظام ہے۔

 

آئندہ ہزاروں، بلکہ لاکھوں سالوں میں ممکن ہے کہ نقشہ بدل جائے، پہاڑ مزید بلند ہو جائیں یا زیرِ زمین پلیٹوں کی کشمکش کسی نئی جغرافیائی وحدت کو جنم دے۔ لیکن فی الحال ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں۔ زمین کی گہرائیوں میں جاری یہ خاموش جنگ ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ قدرت کی سب سے بڑی حقیقت تبدیلی ہے—اور ہمالیہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

#pakistanriverupdates

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *