خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خدشات ڈیم بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت

0
FB_IMG_1764495108837

دریائے سندھ کا بہاؤ موسمی ہے۔

آج دریائے سندھ کا بہاؤ کم ہو کر صرف 19 ہزار کیوسک رہ گیا ہے، جبکہ یہی دریا گرمیوں میں عام حالات میں پانچ سے سات لاکھ کیوسک تک بہتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ دریا مکمل طور پر موسمی ہے—گرمیوں میں پانی بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور سردیوں میں خطرناک حد تک کم رہ جاتا ہے۔

 

موسمی دریاؤں سے فائدہ ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ ان پر ڈیمز بنائے جائیں، تاکہ گرمیوں کے موسم میں آنے والا اضافی پانی محفوظ کیا جا سکے اور پھر سارا سال دریا کو مناسب اور مسلسل بہاؤ دیا جا سکے۔ ورنہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے یہی دریا ایک دن خطرناک حد تک خشک ہو جائیں گے اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

 

اس وقت صرف تربیلا ڈیم ہے، اور وہ بھی مٹی سے تیزی سے بھر رہا ہے۔ اگر وہ مکمل بھر گیا تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا؟ ہم ایک بڑتی ہوئی آبادی، بڑھتی خوراکی ضرورت اور کم ہوتے پانی کے ساتھ انتہائی خطرناک صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ہماری سوچ آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھی، جب پورے انڈس ریور سسٹم کے مقابلے میں کراچی جتنی آبادی بھی نہیں تھی۔

 

اب قصور وار کون ہے؟ یہ بھی کوئی مشکل سوال نہیں۔ کیونکہ ہمارے بہت سے پی ایچ ڈی آبی ماہرین بھی وہی سوچ رکھتے ہیں۔ جیسے بھارت میں کچھ ’’پی ایچ ڈی‘‘ گوبر کے فائدے پر لیکچر دیتے ہیں، ویسے ہمارے ماہرین ڈیمز کے نقصان پر کہانیاں سناتے ہیں۔

مظہر بھٹی بہاولپور

#PakistanRiverUpdates

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *