آج 2025 کی طویل ترین رات، دورانیہ 13 گھنٹے 58 منٹ، دن مختصر ترین
آج 2025 کی طویل ترین رات، دن کا دورانیہ کم ترین سطح پر
آج کی رات سال 2025 کی طویل ترین رات ہوگی، جس کا دورانیہ تقریباً 13 گھنٹے 58 منٹ پر محیط ہوگا، جبکہ آج دن کا دورانیہ تقریباً 10 گھنٹے رہ جائے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ صورتحال زمین کے محوری جھکاؤ اور سورج کے گرد گردش کے باعث پیدا ہوتی ہے، جسے موسمِ سرما کا انقلاب (Winter Solstice) کہا جاتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق 21 دسمبر کے قریب شمالی نصف کرے میں سال کی سب سے طویل ترین رات اور مختصر ترین دن واقع ہوتا ہے۔ اس دن سورج کی شعاعیں خطِ سرطان کے مقابلے میں زیادہ تر جنوبی نصف کرے پر پڑتی ہیں، جس کے نتیجے میں شمالی علاقوں میں دن چھوٹا اور رات طویل ہو جاتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں آج رات کو سردیوں کی سب سے لمبی رات قرار دیا جا رہا ہے۔ سرد علاقوں میں رات کے طویل ہونے کے باعث درجہ حرارت میں مزید کمی محسوس کی جا سکتی ہے، جبکہ دھند اور سرد ہواؤں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آج کے بعد ایک اہم فلکیاتی تبدیلی کا آغاز ہو جائے گا، کیونکہ آج کے بعد رات کا دورانیہ بتدریج کم جبکہ دن کا دورانیہ بڑھنا شروع ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ تبدیلی روزانہ چند سیکنڈز یا منٹوں میں ہوتی ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دن واضح طور پر طویل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
فلکیاتی کیلنڈر کے مطابق دن اور رات کے دورانیے میں یہ تبدیلی مسلسل جاری رہے گی، یہاں تک کہ اگلے برس 21 اور 22 مارچ کو دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا۔ اس دن کو اعتدالِ ربیعی (Spring Equinox) کہا جاتا ہے، جب دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات تقریباً 12، 12 گھنٹے کے ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اعتدالِ ربیعی کے بعد دنوں کا دورانیہ رات کے مقابلے میں تیزی سے بڑھنے لگتا ہے، جس سے موسمِ بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ فلکیاتی عمل ہر سال باقاعدگی سے دہرایا جاتا ہے اور انسانی زندگی، زراعت اور موسمی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
قدیم تہذیبوں میں بھی طویل ترین رات کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ مختلف ثقافتوں میں اس موقع پر خصوصی تقریبات، دعائیں اور مذہبی رسومات ادا کی جاتی رہی ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی فلکیات کے شوقین افراد اس دن کو خصوصی دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔
ماہرین فلکیات کے مطابق یہ ایک قدرتی نظام کا حصہ ہے اور اس میں کسی قسم کی غیر معمولی یا خطرناک بات شامل نہیں۔ تاہم، سردیوں کے اس دورانیے میں عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، خاص طور پر رات کے اوقات میں سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب لباس اور احتیاط ضروری ہے۔
آخر میں، آج کی طویل ترین رات فطرت کے ایک منظم اور حسین نظام کی یاد دہانی ہے، جس کے بعد دن دوبارہ لمبے ہونے لگیں گے اور موسمِ بہار کی جانب سفر کا آغاز ہو جائے گا۔
طویل خشک سالی کا خاتمہ، محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی
