سی پیک کے تحت پاک چین زرعی تعاون کا نیا مرحلہ، 4.5 ارب ڈالر کے 79 معاہدوں پر دستخط

0

پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس، زرعی تعاون کے معاہدوں پر دستخط

سی پیک کے تحت پاک چین زرعی تعاون

چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ارتقائی فریم ورک کے تحت پاک چین زرعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان تقریباً 4.5 ارب ڈالر مالیت کے 79 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان–چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران سامنے آئی، جو پاکستان کے زرعی و غذائی شعبے میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاس ہے۔

کانفرنس کے بعد منگل کی سہ پہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد طویل المدتی سرمایہ کاری شراکت داریوں کو فروغ دینا، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تیز کرنا اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات وزیراعظم کے زرعی اصلاحاتی ایجنڈے اور چین کے کامیاب زرعی ترقیاتی ماڈل سے ہم آہنگ ہیں۔

رانا تنویر حسین کے مطابق اس فورم کے ذریعے 116 چینی اور 165 پاکستانی کمپنیوں کے درمیان براہِ راست بزنس ٹو بزنس روابط قائم ہوئے، جس سے زرعی شعبے میں ہدفی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے اہم ترجیحی ذیلی شعبوں میں کیے گئے ہیں، جن میں

  • بیجوں کی تیاری

  • لائیو اسٹاک

  • فارْم میکانائزیشن

  • فوڈ پروسیسنگ

  • کولڈ چین لاجسٹکس

  • زرعی برآمدات

شامل ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان سرمایہ کاری معاہدوں سے نہ صرف پاکستان کی زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدن بہتر، برآمدات میں اضافہ اور خوراک کی ویلیو چین مضبوط ہو گی۔ ماہرین کے مطابق پاک چین زرعی تعاون پاکستان کی معیشت، فوڈ سکیورٹی اور دیہی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *