غزہ امن فورس: پاکستان فوج نہیں بھیجے گا

0
غزہ میں مجوزہ امن فورس، پاکستان شامل نہیں
غزہ میں قیام امن اور تعمیر نو کے لیے بننے والی فورس میں پاکستان شامل نہیں، امریکا اور چند مسلم ممالک کی حمایت۔

غزہ امن فورس: پاکستان شامل نہیں

اسلام آباد: غزہ میں قیامِ امن اور تعمیرِ نو کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ٖغزہ امن فورس)  میں پاکستان ان پانچ ممالک میں شامل نہیں جو وہاں فوجی دستے بھیج رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس فورس کے قیام کا مقصد جنگ کے بعد سیکیورٹی، امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

امریکا اور چند مسلم اکثریتی ممالک نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے فوجی نفری اور مالی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کون سے ممالک شامل ہیں؟

اطلاعات کے مطابق:

  • امریکا نے قیامِ امن مشن کی حمایت اور وسائل فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

  • مراکش اور انڈونیشیا سمیت چند مسلم اکثریتی ممالک نے فوجی دستے اور فنڈنگ دینے کا اعلان کیا ہے۔

  • فورس کا مقصد غزہ میں سیکیورٹی استحکام، انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیرِ نو کے عمل کی نگرانی بتایا جا رہا ہے۔

پاکستان نے تاحال اس فورس میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا اور سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی باقاعدہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

فورس کے مقاصد کیا ہیں؟

ذرائع کے مطابق مجوزہ فورس کے اہم اہداف میں شامل ہیں:

  • جنگ کے بعد سیکیورٹی خلا کو پُر کرنا

  • انسانی امداد کی محفوظ ترسیل یقینی بنانا

  • بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں مدد

  • قیامِ امن کے لیے عبوری انتظامات

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں استحکام کے لیے اہم ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف ممالک کی سیاسی اور سفارتی ترجیحات بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *