سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد 8 سے زائد ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے خواہاں،
پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے خواہاں 8 مزید ممالک:
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کو نئی تقویت ملی ہے۔ دفاعی اور سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے کے بعد 8 سے زائد ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اور معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جن میں ایک اہم نام بنگلہ دیش کا بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی دفاعی صنعت، عسکری تربیت، انسداد دہشت گردی کے تجربے اور جدید ملٹی ڈومین آپریشنل صلاحیتوں نے عالمی سطح پر کئی ممالک کی توجہ حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تربیت، ٹیکنالوجی شیئرنگ، مشترکہ مشقوں اور ہتھیاروں کی خریداری کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی اعتبار سے بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد دفاعی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے پاس جدید عسکری صلاحیتوں کے ساتھ عملی میدان کا وسیع تجربہ بھی موجود ہے۔
اسی تناظر میں بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے اور تعاون میں دلچسپی کو غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق بنگلہ دیش، جو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے، پاکستان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ابتدائی رابطوں اور مشاورت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون آگے بڑھتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا میں دفاعی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس ممکنہ پیش رفت کو خطے میں بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹجک حالات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا اور پالیسی حلقوں میں ان خبروں پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت پاکستان کے بڑھتے دفاعی روابط کو علاقائی طاقت کے توازن کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بھارتی میڈیا میں ان ممکنہ دفاعی معاہدوں پر بحث جاری ہے، جہاں اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اور عسکری اہمیت سے جوڑا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی دفاعی برآمدات، مشترکہ مشقیں اور تربیتی پروگرامز پہلے ہی کئی ممالک میں مقبول ہو چکے ہیں۔ جے ایف-17 تھنڈر، بحری پلیٹ فارمز، ڈرون ٹیکنالوجی اور انسداد دہشت گردی کی تربیت پاکستان کی اہم دفاعی پہچان بن چکی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی پالیسی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف بلاک بنانے کے بجائے باہمی احترام اور شراکت داری پر یقین رکھتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان آنے والے دنوں میں مزید دفاعی معاہدے طے کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ پاکستان کا عالمی سطح پر اعتماد اور اثرورسوخ بھی بڑھے گا۔