اسلام نے محرم خواتین کے ساتھ نکاح کو حرام کیوں قرار دیا؟ اس کے پیچھے چھپے گہرے راز اور اس عمل کےخوفناک نقصانات
اللہ نے محرم خواتین سے نکاح حرام کیوں کیا؟
یورپ کے کئی شاہی خاندانوں میں اقتدار اور “شاہی خون کی پاکیزگی” برقرار رکھنے کے لیے قریبی رشتہ داروں میں شادیاں کی جاتی تھیں۔ اس کا نتیجہ جسمانی کمزوریوں، ذہنی امراض اور نسلی خاتمے کی صورت میں سامنے آیا۔
مثال کے طور پر یورپ کے مشہور شاہی خاندان ہابسبرگ (House of Habsburg) میں اندرونی شادیوں کا رجحان نمایاں تھا۔ اقتدار خاندان کے اندر رکھنے کے لیے قریبی رشتوں میں نکاح کیے جاتے رہے۔ اسپینی بادشاہ فلپ دوم (Philip II of Spain) نے اپنی بھانجی آنا آف آسٹریا (Anna of Austria) سے شادی کی۔ اسی روایت کو دہراتے ہوئے فلپ چہارم (Philip IV of Spain) نے اپنی بھانجی ماریانا آف آسٹریا (Mariana of Austria) سے نکاح کیا۔ ان فیصلوں نے وقتی طور پر سیاسی اتحاد تو قائم رکھا، لیکن جینیاتی کمزوری نسل در نسل بڑھتی گئی۔
اس سلسلے کی سب سے نمایاں مثال اسپین کا بادشاہ کارلوس دوم (Charles II of Spain) ہے، جو 1661ء میں پیدا ہوا۔ اس میں اندرونی شادیوں کی شرح انتہائی زیادہ تھی۔ وہ شدید جسمانی کمزوری کا شکار تھا۔ اس کا نچلا جبڑا غیر معمولی حد تک باہر نکلا ہوا تھا، وہ صحیح طرح کھانا نہیں چبا سکتا تھا، بار بار بیمار پڑتا تھا اور اولاد سے محروم رہا۔ اس کی وفات کے ساتھ ہابسبرگ خاندان کی اسپینی شاخ کا ہی خاتمہ ہوگیا اور نسل معدوم ہوگئی۔
پرتگال کی ملکہ ماریا اول (Maria I of Portugal) نے اپنے چچا پیٹر سوم (Peter III of Portugal) سے شادی کی۔ بعد میں وہ شدید ذہنی بیماری کا شکار ہوئی۔ مسلسل قریبی شادیوں نے مجموعی جینیاتی کمزوری کو ضرور بڑھایا۔
یہ تاریخی واقعات اس پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپی شاہی خاندانوں کی اس روایت نے خود ان کے نظام اور صحت کو نقصان پہنچایا۔ فطرت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے نتائج دیر سے سہی، مگر بھیانک نکلتے ہیں۔ مغرب کو تو اب پتہ چلا کہ یہ نقصان دہ ہے۔ یہ مسلمانوں پر دقیانوسیت کی پھبتی کستے اور تنقید کرتے ہیں۔ یہ ہے ان کی اخلاقیات کا حال۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے قریبی محرم رشتوں سے نکاح کو قطعی طور پر حرام قرار دیا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
“تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں حرام کر دی گئی ہیں…” (سورۃ النساء 4:23)
اس وقت انسان جینیات (Genetics) کے علم سے ناواقف تھا۔ بعد میں سائنس نے تحقیق کے ذریعے یہ سمجھا کہ قریبی رشتوں میں شادیوں سے موروثی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاریخی مشاہدہ اور سائنسی تحقیق دونوں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قریبی رشتوں میں نکاح کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق و مالک ہے۔ وہ انسان کی جسمانی، نفسیاتی اور معاشرتی ساخت کو سب سے بہتر جانتا ہے۔ اسی لیے اس نے قریبی محرم خواتین سے نکاح کو حرام قرار دیا۔ سائنس تو اس نتیجے تک بعد میں پہنچی، مگر خالق کی ہدایت پہلے سے موجود تھی۔ (ضیاء چترالی)
الحمدللہ علی نعمۃ الاسلام
(تصویر: کارلوس دوم)
