کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پاسکنا ایک افسوسناک سوالیہ نشان ہے: مفتی تقی عثمانی
گل پلازہ سانحہ
گل پلازہ سانحہ پر مفتی تقی عثمانی کا سخت ردِعمل
کراچی: ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے بڑے اور اہم شہر میں آگ پر بروقت قابو نہ پا سکنا ایک افسوسناک اور تشویشناک سوالیہ نشان ہے۔
بروقت مدد نہ پہنچنے پر سوالات
ایک بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ:
“یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ گل پلازہ واقعے میں بروقت امدادی کارروائی کیوں نہ ہو سکی۔ اس حوالے سے بے لاگ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔”
انہوں نے اس حادثے کو قوم کے لیے انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ قرار دیا۔
قیمتی جانوں کا ضیاع اور معاشی نقصان
مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ:
-
چند ہی گھنٹوں میں کئی قیمتی جانیں بے بسی اور لاچاری کی حالت میں ضائع ہو گئیں
-
متعدد متوسط درجے کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا
-
یہ سانحہ متاثرہ خاندانوں کو معاشی طور پر قلاش کر گیا
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ناقص حفاظتی انتظامات کی وجہ سے ہوا، جس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
حفاظتی انتظامات مضبوط بنانا حکومت کی ذمہ داری
مفتی تقی عثمانی نے واضح کیا کہ:
“شہروں میں حفاظتی انتظامات کو تیز، مؤثر اور مضبوط بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔”
جانیں بچانے والوں کی خدمات قابلِ تحسین
انہوں نے ان افراد اور اداروں کی خدمات کو سراہا جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود انسانی جانیں بچانے کی بھرپور کوششیں کیں اور کہا کہ وہ سب قابلِ تحسین اور قابلِ قدر ہیں۔
دعا اور تعزیت
مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا:
“اللہ تعالیٰ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور متاثرہ افراد کو اس کا بہتر نعم البدل عطا فرمائے۔”
