غزہ کی زیرِ زمین سرنگیں: آٹھ ہزار میٹر کی جدوجہد، عزم اور تیاری کی حیران کن داستان
غزہ کی زیرِ زمین سرنگیں
یہ قوت اور عزم کا ایک ایسا کرشمہ ہے، جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آٹھ کلومیٹر لمبی اور پچیس سے تیس میٹر گہری سرنگ کا مطلب
کیا ہے؟ یعنی آٹھ ہزار میٹر!
اگر آپ سے کہا جائے کہ صرف ایک سے آٹھ ہزار تک گنتی کریں تو آپ تھک جائیں گے، اکتاہٹ محسوس کریں گے اور شاید غلطی کر کے دوبارہ شروع کرنا پڑے۔
ذرا سوچیں، یہ صرف گنتی ہے اور ادھر یہ لمبی کھدائی کی گئی، وہ بھی زیرِ زمین!
دجالی فوج کہتی ہے کہ انہیں رفح میں ایسی سرنگ ملی ہے، جس میں اسی کمروں پر مشتمل قیادت و انتظام کا پورا نظام موجود تھا۔ یہ صرف ایک سرنگ نہیں، یہ ارادے، تیاری، اور اللہ کے حکم “وَأَعِدّوا” (دشمن کے خلاف تیاری کرو) کی عملی تفسیر ہے۔
یہ سرنگ ان سانسوں، محنتوں، تھکن، سرگزشتوں، وقتوں اور اُن جانوں کا حاصل ہے جو زخمی ہوئیں، جو قربان ہو گئیں، جو برسوں اپنے اہلِ خانہ سے دور رہیں۔ ہر لمحہ، گھنٹے، دن، مہینے، سال، اس عظیم کارنامے پر لگائے۔
آٹھ ہزار میٹر کی کھدائی! ہر میٹر ایک فتح! ہر میٹر کے ساتھ تکبیر، تحمید اور سجدۂ شکر!
ریتیلی یا چکنی مٹی کی زمین میں کھدائی کرنا الگ مہارت چاہتا ہے۔ پھر تیس میٹر گہرائی تک عمودی اتر کر زمین کے اندر افقی راستے بنانا، یہ اپنے آپ میں ایک کرشمہ ہے۔
زمین کے اندر کیا ہوتا ہے؟
آکسیجن کتنی کم؟
درجہ حرارت کیسا؟
پھر بھی وہ کھدائی کرتے، ریت نکالتے، اسے منتقل کرتے، پھر دیواریں اور چھتیں بناتے۔ کہیں لکڑی سے، کہیں سیمنٹ سے اور جب سیمنٹ روک دیا گیا تو انہوں نے ہار نہیں مانی۔
انہوں نے تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے پتھر توڑے، مشقت سے انہیں مطلوبہ شکل دی، سیدھے پتھر، محرابی پتھر، ان کا وزن، ان کی تیاری، ان کی ترسیل… پھر انہیں لے جا کر گہرائی میں لگانا!
یہ سب اس وقت جب ڈرون، جاسوسی طیارے اور امریکا، برطانیہ و اسرائیل کی سیٹلائٹس اوپر زیرگردش ہوں۔
کیا واقعی یہ انسان تھے؟
یا کوئی داستان، کوئی افسانہ، کوئی خواب؟
لیکن نہیں، یہ حقیقت ہے، غزہ کی وہ کرشمہ آفرین حقیقت جسے تاریخ نے ہمیشہ کے لیے رقم کر لیا۔
انہوں نے زیرِ زمین پوری ایک نئی غزہ شہر کھڑا کر دیا، تقریباً چھ سو کلومیٹر طویل سرنگوں کا جال!
فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک کی سرنگیں، جو کئی دہائیوں میں تیار ہوئیں، ان کے مقابلے میں یہ جال زیادہ طویل اور پیچیدہ ہے اور وہ بھی ابتدائی، سادہ وسائل سے!
ان سرنگوں کی تعمیر کے دوران ہاتھ کٹے، پاؤں ٹوٹے، انگلیاں ضائع ہوئیں، ناخن نوچے گئے اور چھ سو سے زائد جانباز شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے اور فتنہ پرست منافقین نے کہا کہ یہ آپس میں لڑتے مر رہے ہیں!
لیکن جب طوفان کا دن آیا۔ وہ دن جب اللہ نے اُن کے ہاتھوں یہود اور ان کے حلیفوں کے چہروں کو خاک آلود کیا اور ان کی کاری گری نے دنیا کو حیران کر دیا۔
سابق امریکی صدر بائیڈن نے جب ان سرنگوں کی جھلک دیکھی تو کہا:
“یہ حیران کن ہیں! انہیں امریکی عسکری اکیڈمیوں میں پڑھایا جانا چاہیے!”
ان سرنگوں کے بنانے والے کسی عالمی اکیڈمی سے نہیں آئے تھے۔ ان کے استاد تھے: سیدنا سلمان فارسیؓ، غزوۂ خندق کے کاریگر اور پیغامِ الٰہی۔
انہوں نے “وَأَعِدّوا” پر عمل کیا اور اپنے رب کے حکم کو نبھایا۔ سو اللہ نے ان کا ذکر زمین و آسمان میں بلند کیا، غــزہ کی عظمت کو دنیا بھر میں سربلند کر دیا اور اسرائیل کو رسوا و ذلیل کر دیا۔
الحمدللہ رب العالمین
