یو اے ای صدر کے دورے کے باعث اسلام آ بادمیں ٹریفک بندش، سیکیورٹی الرٹ
متحدہ عرب امارات کے صدر کے دورۂ پاکستان کے باعث خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے آج 26 دسمبر کو وفاقی دارالحکومت میں 18 گھنٹوں کے لیے خصوصی ٹریفک انتظامات کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر کے دورۂ پاکستان کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی، امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا اور ٹریفک کے بہاؤ کو منظم رکھنا ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق غیر ملکی سربراہِ مملکت کی آمد کے موقع پر بین الاقوامی سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت مخصوص شاہراہوں اور حساس مقامات پر ٹریفک کی عارضی بندش ناگزیر ہوتی ہے۔
ٹریفک بندش کی وجہ کیا ہے؟
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق:
-
یو اے ای کے صدر کی آمد و رفت
-
اعلیٰ سطحی سیکیورٹی انتظامات
-
غیر ملکی وفود کی نقل و حرکت
-
امن و امان کی مجموعی صورتحال
-
شہریوں کی حفاظت
کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے دوروں کے دوران معمولی سی لاپرواہی بھی بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے، اسی لیے سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
کن علاقوں میں ٹریفک متاثر ہوگی؟
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق:
-
ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستے
-
ایئرپورٹ روٹ
-
ایکسپریس وے کے مخصوص حصے
-
سفارتی انکلیو کے اطراف
-
اہم شاہراہیں اور چوراہے
عارضی طور پر بند یا محدود رہیں گے، جبکہ بعض سڑکوں پر کنٹرولڈ ٹریفک چلائی جائے گی۔
شہریوں کے لیے ہدایات
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ:
-
غیر ضروری سفر سے گریز کریں
-
متبادل راستوں کا استعمال کریں
-
ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کریں
-
کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ٹریفک ہیلپ لائن سے رابطہ کریں
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تعاون سے ہی سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
متبادل راستوں کا انتظام
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے بند سڑکوں کے متبادل راستوں کا انتظام بھی کر رکھا ہے تاکہ:
-
روزمرہ معمولات کم سے کم متاثر ہوں
-
ایمرجنسی سروسز کو بلا رکاوٹ رسائی حاصل رہے
-
ٹریفک جام کی صورتحال سے بچا جا سکے
اہلکاروں کو اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی رہنمائی کی جا سکے۔
ٹریفک پولیس کا مؤقف
اسلام آباد ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بندش عارضی ہے اور غیر ملکی مہمان کے دورے کے اختتام کے فوراً بعد تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے کھول دی جائیں گی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے مثبت تشخص، مہمان نوازی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اردن کے چیف جوائنٹس آف سٹاف کی ملاقات، خطے میں ہونے جا رہا ہے کچھ بڑا؟؟؟