طلاق کی ہر قسم کو 90 دن کے اندر واپس لیا جا سکتا ہےسپریم کورٹ کا انتہائی متنازعہ فیصلہ
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ طلاق کی ہر قسم کو 90 دن کے اندر واپس لیا جا سکتا ہے، جیسا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 میں ذکر ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ طلاق فوراً نافذ نہیں ہوتی، بلکہ یہ 90 دن مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی ہوتی ہے، اگر اس سے پہلے واپس نہ لی جائے۔
یہ فیصلہ شوہر اور بیوی دونوں پر لاگو ہوتا ہے، جب بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا گیا ہو۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ طلاق کی کارروائی اسی مقام پر ہوگی جہاں بیوی رہائش پذیر ہو — چاہے وہ پاکستان میں ہو یا بیرونِ ملک۔