جاوید اختر سے مباحثے کے بعد مفتی شمائل ندوی کے فالوورز میں زبردست اضافہ، تعداد تقریباً 19 لاکھ تک پہنچ گئی
بھارت اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر ہونے والے ایک غیر معمولی اور فکری مباحثے نے لاکھوں افراد کی توجہ حاصل کر لی۔ معروف اسلامی اسکالر مفتی شمائل ندوی اور بھارتی شاعر و دانشور جاوید اختر کے درمیان آن لائن مباحثہ، جس کا موضوع “کیا خدا کا وجود ہے؟” تھا، دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا۔
اس آن لائن مکالمے کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ویوز ملے، جبکہ دونوں ممالک میں اس پر شدید بحث و مباحثہ شروع ہو گیا۔ مباحثے کے دوران مفتی شمائل ندوی کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کو بڑی تعداد میں صارفین نے سراہا اور شیئر کیا، جس کے نتیجے میں ان کی آن لائن مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مباحثے کے بعد مفتی شمائل ندوی کے فالوورز میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 19 لاکھ (1.9 ملین) تک پہنچ گئی، جو کہ مباحثے سے قبل کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر ان کی ویڈیوز، کلپس اور نکات وائرل ہوتے رہے، جس سے ان کی رسائی اور انگیجمنٹ میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا۔
مباحثے کے دوران مذہب اور فلسفے جیسے حساس موضوع پر سنجیدہ اور مدلل گفتگو نے عوامی دلچسپی کو مزید بڑھا دیا۔ خاص طور پر نوجوان طبقے میں اس مکالمے کو غیر معمولی پذیرائی ملی، جہاں لوگ مذہبی اور فکری سوالات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے نظر آئے۔
اگرچہ مختلف رپورٹس میں فالوورز کی تعداد کے حوالے سے اعداد و شمار میں معمولی فرق بتایا جا رہا ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ اس مباحثے نے مفتی شمائل ندوی کی ڈیجیٹل موجودگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ مباحثہ تاحال سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور مختلف صارفین اپنی آرا اور تجزیے پیش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مذہبی اور فلسفیانہ موضوعات آج بھی عوامی دلچسپی کا مرکز ہیں، اور سوشل میڈیا ایسے مباحثوں کو عالمی سطح پر پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔