افغانستان سے پاکستان میں جاری دراندازی روکنے میں کسی حد تک مثبت پیش رف،افغان علماء کا پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ

0

 

پاکستان کے دیرینہ مطالبےکی توثیق، افغان علماکا افغان حکومت پر اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دینےپر زور

افغانستان سے پاکستان میں جاری دراندازی روکنے کے سلسلے میں مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔

کابل میں افغان علما اور مذہبی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں عسکریت پسندی کے لیے سرحد عبور نہ کرنے پر زور دیا گیا۔

ذرائع نے طلوع نیوز کو تصدیق کی ہے کہ کابل میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں علما اور مشائخ کا کہنا تھا کہ اپنے حقوق، اقدار اور شرعی نظام کا دفاع ہر فرد پر فرض ہے۔

اجلاس میں اسلامی امارت سے طالبہ کیا گیا کہ امارتِ اسلامی افغانستان کے رہبر کے حکم کی روشنی میں کسی کو بھی بیرونِ ملک عسکری سرگرمیوں کے لیے جانے کی اجازت نہ دی جائے۔

اجلاس میں اس فیصلے پر بھی زور دیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اور اگر کوئی اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے تو اسلامی امارت کو اس کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق کابل میں ہونے والے اس اجلاس میں ایک ہزار افغان مذہبی رہنما اور عمائدین نے شرکت کی اور اختتام پر ان نکات کی بنیاد پر ایک باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

افغان عمائدین اور علما کے بیان سےپاکستان کےدیرینہ مطالبےکی توثیق ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان سے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم افغان طالبان جارحیت پر قائم ہیں اور سرحد پار سے پاکستان میں دراندازی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کے 3 ادوار ہوئے لیکن افغان طالبان کی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ ان مذاکرات کے دوران افغان وفد بار بار کابل اور قندہار سے ہدایات لیتا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتا رہا۔

ان مذاکرات میں پاکستان نے افغان طالبان سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت مانگی جو افغان طالبان دینے میں ناکام رہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *