کابل میں علماء کا اجلاس، اور پاک افغان معاملات میں امن کے امکانات کا روشن ہوتا افق

0
کابل میں علماء کا اجلاس، امکانات کا روشن ہوتا افق
کل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں افغانستان کے تمام چونتیس صوبوں سے علماء، قبائلی عمائدین اور سرکردہ افراد نے شرکت کی. اجلاس کا اعلامیہ خطے کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں بےحد اہم ہے.
اعلامیے میں کہا گیا کہ چونکہ امارتِ اسلامی نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اس لیے افغانستان کی سرحدات سے باہر دیگر ممالک میں حملے ناجائز ہیں. جو شخص اس کا ارتکاب کرے وہ نافرمان ( باغی ) ہے. حکومت کو اس کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے. مسلم ممالک کے وقار اور نیک نامی میں اضافے کے لیے باہم اتحاد و اتفاق ضروری ہے.
یہ تو ہوئی خبر، مگر اصل خبر اس خبر کی اوٹ میں مستور ہے. کیا اس قدر اہم اور ملکی سطح کا اجلاس محض ایک نجی قسم کی سرگرمی تھی؟ نہیں ایسا نہیں ہے. اتنا بڑا اجتماع حکومت کی منشا بلکہ خواہش کے بغیر انعقاد پذیر نہیں ہوسکتا. مگر سوال یہ ہے کہ طالبا.ن تو پاکستان سے متعلق نہایت جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے تھے، اچانک یہ کرشمہ کیسے ممکن ہو پایا؟
اب ذرا پلٹ کر قطر، ترکی اور سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے طویل سلسلے پہ نظر ڈالیے. دنیا کو ہر اجلاس کے بعد یہ بتایا جاتا رہا کہ مذاکرات کی میز پہ بڑی لے دے ہوئی ہے ، طرفین منہ سے کف اڑاتے رہے اور اپنے اپنے انتہائی موقف پہ ڈٹے رہے، مگر اس سب کے باوجود سیز فائر قائم رہا. کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں؟ چند روز قبل چمن سرحد پہ ڈیڑھ گھنٹے کی جھڑپ ہوئی، مگر پھر سرحد کی دونوں اطراف میں یوں سکون چھایا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں.
دنیا تو یہ جانتی ہے کہ قطر، ترکی اور سعودی عرب میں ہونے والے تمام مذاکرات ناکام رہے. پھر یہ اچانک اتنا بڑا بریک تھرو کیسے ممکن ہوا؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہاتھی کے کھانے اور دکھانے کے دانت باہم مختلف تھے. معاملات درست سمت میں چلتے رہے، مگر تاثر یہ دیا گیا کہ اب جنگ چھڑی کہ تب. تاکہ خطے کے وہ ممالک جو دونوں پڑوسیوں کی ایک دوسرے سے دوری میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں، وہ مطمئن رہیں. اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام گروہ بھی شانت رہیں جن کی وجہ سے یہ سارا پاکھنڈ مچا ہوا ہے.
اگر یہ سب ویسے ہی ہو رہا ہے جو باہم ملتی کڑیاں منظر دکھاتی ہیں، تو ایسے میں یقیناً افغان حکومت نے بڑی چابک دستی سے بیچ کا راستہ نکالا ہے. اب وہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں سے کہہ سکتی ہے کہ جناب ہماری قوم نے یک زبان ہو کر یہ فیصلہ سنایا ہے. اس لیے اب ہم کچھ نہیں کر سکتے. آپ کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ یہاں رہنا ہے تو سکون سے رہیں.
منظر نامے کی متعدد جہات ہیں. سردست یہ دیکھنا ہے کہ افغان حکومت اس اعلامیے کو کس طرح کام میں لاتی ہے، اس کے بعد دیگر پہلوؤں پہ بات کریں گے.
بشکریہ نواز کمال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *