پاک سعودی دفاعی اتحاد میں ترکی بھی شمولیت کےلیے تیار—بلوم برگ کی رپورٹ
پاک سعودی دفاعی اتحاد میں ترکی کی شمولیت؟
اک سعودی معاہدے میں ترکی کی شمولیت ترکی نے سعودی عرب اور پاکستان کے مشترکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمی سطح پر سکیورٹی توازن کو دوبارہ مرتب کر سکتا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں اور اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ ترکی جلد اس دفاعی اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ مذاکرات میں اعلیٰ سطحی فوجی اور سفارتی حکام شریک ہیں۔ یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، جسے اسٹریٹجک دفاعی اتحاد کہا جاتا ہے، اس اصول پر مبنی ہے کہ کسی بھی رکن ملک پر حملہ، تمام اراکین پر حملہ سمجھا جائے گا، جسے ماہرین نیٹو کے آرٹیکل 5 کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ترکی اس اتحاد میں شامل ہو کر اپنی سیکورٹی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر موجودہ خطے میں بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں اور مغربی اتحادیوں کی فراہم کردہ روایتی سیکورٹی گارنٹیوں پر سوالات کے تناظر میں۔ اگر ترکی شامل ہو جاتا ہے تو سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی فوجی اور جوہری صلاحیتیں اور ترکی کی فوجی قوت اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی ایک نئے علاقائی دفاعی محور کی تشکیل کریں گی جو خطے میں سیکورٹی، توازنِ طاقت اور اسٹریٹجک اثرات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب تک، نہ تو انقرہ، نہ اسلام آباد اور نہ ہی ریاض کی جانب سے کوئی سرکاری اعلان کیا گیا ہے، لیکن سفارتی اشارے اور مذاکرات کی پیش رفت ظاہر کر رہی ہے کہ معاہدہ جلد ممکن ہے۔
