سینیٹ نے پیکا ایکٹ ترمیم سمیت متعدد اہم بل منظور کر لیے, بچوں کی فحش ویڈیوز یا پھیلانے والے کےلیے دس سال قید کی سزا منظور

0

سینیٹ اجلاس میں پیکا ایکٹ ترمیم بل کی منظوری

پیکا ایکٹ ترمیم بل

سینیٹ آف پاکستان نے قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ (پیکا ایکٹ) میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کو ان ممالک کے ساتھ Mutual Legal Assistance Treaty (MLAT) کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جن کی سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پاکستان میں استعمال ہو رہی ہیں۔

ترمیمی بل کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل جرائم، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور آن لائن جرائم کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مؤثر بنانا ہے، تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے متعلق قانونی معاملات میں شواہد اور معلومات کا تبادلہ ممکن ہو سکے۔

اسی اجلاس میں سینیٹ نے کرمنل قوانین میں ترمیم کا بل بھی منظور کر لیا، جس کے تحت زیادتی کا شکار لڑکے یا لڑکی کا طبی معائنہ نہ کرنے پر ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ بل کے مطابق اگر کوئی سرکاری یا نجی اسپتال متاثرہ کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم نہیں کرتا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید یہ کہ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی اسپتال زیادتی کا شکار فرد کو 24 گھنٹوں کے اندر سرکاری اسپتال منتقل کرنے کے پابند ہوں گے، تاکہ قانونی تقاضے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔

سینیٹ نے انسداد الیکٹرانک جرائم ترمیمی بل بھی منظور کیا، جس میں بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے یا پھیلانے پر سزا 7 سال سے بڑھا کر 10 سال قید اور جرمانہ 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹ نے ثمینہ زہری کا فیملی کورٹ ترمیمی بل اور شیری رحمان کا اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور کے استعمال پر پابندی کا بل بھی منظور کر لیا، جس کا مقصد ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق منظور ہونے والے یہ بل ڈیجیٹل سکیورٹی، انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *