بسنت کا تہوار: لاہور میں محدود اجازت، حفاظتی اقدامات اور مفت سہولیات — وزیرِاعلیٰ مریم نواز کا تفصیلی اعلان
بسنت کا تہوار
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت کے تہوار سے متعلق اہم اور تفصیلی پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوام کی خوشیوں اور جان و مال کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنا حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت بسنت کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر محدود پیمانے پر منانے کی اجازت دی گئی ہے۔
🪁 بسنت کے لیے کن چیزوں کی اجازت اور کن پر پابندی؟
وزیرِاعلیٰ کے مطابق بسنت کے دوران صرف 9 دھاگوں پر مشتمل کاٹن کی ڈور کے پنے کے استعمال کی اجازت ہوگی، جبکہ:
-
چرخی (چرخی والی ڈور)
-
دھاتی تار
-
تندی
-
بلٹ پروف یا کسی بھی قسم کی خطرناک ڈور
پر سخت پابندی عائد ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
🗓️ بسنت کہاں اور کب منائی جائے گی؟
حکومت پنجاب نے واضح کیا ہے کہ:
-
صرف لاہور میں
-
7 اور 8 فروری
کو بسنت منانے کی اجازت ہوگی۔
لاہور کے علاوہ پنجاب کے تمام دیگر اضلاع میں پتنگ بازی بدستور ممنوع رہے گی۔
🛵 بائیک سواروں کے لیے سیفٹی راڈ — مفت سہولت
وزیرِاعلیٰ مریم نواز نے بتایا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے:
-
مفت سیفٹی راڈ مہیا کرنے کے لیے خصوصی کیمپ قائم کیے گئے
-
اب تک 7 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈ نصب کیے جا چکے ہیں
انہوں نے بائیک سواروں کو ہدایت کی کہ سیفٹی راڈ لازمی لگوائیں تاکہ:
-
جانی نقصان سے بچا جا سکے
-
بھاری جرمانوں سے محفوظ رہا جا سکے
🚍 بسنت پر مفت ٹرانسپورٹ کا اعلان
بسنت کے تہوار کو عوام کے لیے آسان اور خوشگوار بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ:
-
ہر روٹ پر پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی
-
بسنت کے دو دنوں میں 60 ہزار سے زائد مفت رائیڈز فراہم کی جائیں گی
یہ اقدام خاص طور پر کم آمدن والے شہریوں کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
📊 بسنت پائلٹ پراجیکٹ — آگے کا لائحہ عمل
وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا:
“بسنت پر ہماری توقع سے کہیں زیادہ مثبت رسپانس آیا ہے۔ اگر پائلٹ پراجیکٹ کامیاب رہا تو مستقبل میں دیگر شہروں میں بھی بسنت کے انعقاد کا جائزہ لیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر کسی تہوار کو محفوظ بنانا ممکن نہیں، اس لیے شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
