پراوین ساہنی کا اعتراف: آپریشن سیندور نے پاکستان کو عالمی اسٹیج پر مضبوط کر دیا
آپریشن سیندور کے بعد پاکستان عالمی سطح پر نمایاں طاقت بن کر ابھرا، بھارتی دفاعی تجزیہ نگار پراوین ساہنی
بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ نگار پراوین ساہنی نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں ایک بار پھر اعتراف کیا ہے کہ آپریشن سیندور کے بعد پاکستان نے عالمی اسٹیج پر ایک مضبوط اور نمایاں پوزیشن حاصل کر لی ہے، جبکہ بھارت کو اس آپریشن کے نتیجے میں سنگین اسٹریٹجک نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پراوین ساہنی کے مطابق، دنیا اس وقت تین بڑی طاقتوں کے گرد گھوم رہی ہے اور یہ تینوں طاقتیں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مسلسل مضبوط کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کسی بھی صورت پاکستان کے دفاع پر سمجھوتہ نہیں کرے گا کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور عسکری بنیادوں پر قائم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس کو بھی اس خطے میں پاکستان کی ضرورت ہے اور ماسکو اب جنوبی ایشیا میں اسلام آباد کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ اسی طرح امریکا بھی پاکستان کے خطے میں کلیدی کردار کو تسلیم کر چکا ہے اور واشنگٹن جانتا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کو الگ تھلگ رکھنا ممکن نہیں۔
پراوین ساہنی کے مطابق، اسلامی دنیا میں بھی پاکستان کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہو چکی ہے اور کئی مسلم ممالک دفاعی، سفارتی اور اسٹریٹجک تعاون کے لیے پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ آپریشن سیندور کے بعد واضح طور پر دنیا کے سامنے آیا۔
بھارتی تجزیہ نگار نے ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کم از کم 60 مرتبہ دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ بھارت کی درخواست پر جنگ بندی کرائی گئی اور اس دوران چھ سے آٹھ بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔ حیران کن طور پر بھارت کی جانب سے اس دعوے کی آج تک ایک بار بھی باضابطہ تردید یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔
پراوین ساہنی کا کہنا تھا کہ آپریشن سیندور نے 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام سے جڑے نفسیاتی اثرات کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، آج دنیا یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان نے بھارت کو اس اسٹریٹجک محاذ پر شکست دی ہے، جبکہ بھارت خود کیا سوچتا ہے، اس سے عالمی برادری کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تاثر اب یہی ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، مضبوط اور فیصلہ کن ریاست کے طور پر ابھرا ہے، جسے نظرانداز کرنا کسی بھی بڑی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔
