پاکستان میں پانی کا بحران: بارشوں کی کمی، خشک سالی اور پانی کے تحفظ کی فوری ضرور

0
587774969_25120697710927216_5195020672346809980_n

بلوچستان میں خشک سالی اور پانی کی شدید قلت

پاکستان میں پانی کا بحران

بارش کے پانی کو محفوظ کرو، ٹینکیاں بناؤ، زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرو، ڈیم تعمیر کرو اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کرو — یہ تمام مشورے اس وقت بہت سنے جاتے ہیں، لیکن ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا ہوگا کہ اگر بارش ہی نہ ہو تو؟

پاکستان کے بعض علاقے اس وقت شدید پانی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے علاقے دالبندین، نوکنڈی، جیلانی اور گرد و نواح میں گزشتہ 306 دنوں سے بارش نہیں ہوئی، یعنی تقریباً پورا سال گزر چکا ہے۔ ان علاقوں میں خشک سالی نے نہ صرف زراعت بلکہ انسانی زندگی، مویشیوں اور معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

خشک موسم، زیرِ زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی اور بارشوں کی غیر یقینی صورتحال نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کو اب صرف پانی ذخیرہ کرنے کی نہیں بلکہ پانی کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کی اشد ضرورت ہے۔

اسلام ہمیں پانی کی قدر اور اس کے درست استعمال کی تعلیم دیتا ہے۔ پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، جس کے ضیاع سے بچنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قرآن و سنت میں پانی کے اسراف سے منع کیا گیا ہے، حتیٰ کہ وضو جیسے عبادت کے دوران بھی اعتدال کا حکم دیا گیا ہے۔

بوندیں ترے کرم کی نہ رک جائیں اے خدا
صحرا بھی پھر گلستان بناتے ہیں یہی آب

آج وقت آ گیا ہے کہ ہم پانی کو صرف ذخیرہ کرنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے تحفظ، منصفانہ تقسیم اور دانشمندانہ استعمال کو اپنی قومی پالیسی کا حصہ بنائیں۔
بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، زیرِ زمین ریچارج سسٹمز قائم کرنا، چھوٹے اور درمیانے ڈیم بنانا، اور خشک علاقوں کے لیے خصوصی واٹر مینجمنٹ منصوبے بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پانی کا بحران آنے والی نسلوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، ادارے اور عوام مل کر اس نعمتِ خداوندی کی حفاظت کریں، تاکہ پاکستان کو مستقبل میں کسی بڑے آبی سانحے سے بچایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *