پاکستان اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے درمیان چار ارب ڈالر سے زائد کا تاریخی دفاعی معاہدہ
پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی (LNA) کے ساتھ چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ایک بڑے اور اہم عسکری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے پاکستان کی دفاعی تاریخ کے سب سے بڑے برآمدی معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان لیبیا کو فضائی، زمینی اور بحری افواج کے لیے جدید فوجی سازوسامان فراہم کرے گا، جس میں جدید لڑاکا طیارے، تربیتی جہاز، اسلحہ اور دیگر دفاعی آلات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں پاکستان کے تیار کردہ JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے اور سپر مشق (Super Mushshak) تربیتی طیاروں کی فراہمی بھی شامل ہے، جو پاکستان کی دفاعی صنعت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ کا مظہر ہیں۔ اس کے علاوہ معاہدے میں زمینی اور بحری دفاعی نظام، اسلحہ، مواصلاتی آلات اور تکنیکی معاونت کی فراہمی بھی شامل بتائی جا رہی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی جانب سے 2011 کے بعد سے لیبیا پر عائد اسلحہ جاتی پابندی کے باوجود سامنے آیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور تمام معاملات بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے تحت طے کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق معاہدے کے قانونی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی بین الاقوامی خلاف ورزی نہ ہو۔
پاکستان اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ صرف ہتھیاروں کی فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس میں مشترکہ فوجی تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بعض فوجی سازوسامان کی مشترکہ تیاری بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شراکت داری مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرے گی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان پہلے ہی مختلف ممالک کو دفاعی سازوسامان برآمد کر رہا ہے، تاہم لیبیا کے ساتھ یہ معاہدہ مالی حجم اور اسٹریٹجک اہمیت کے لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے پاکستان شمالی افریقہ میں اپنی عسکری اور دفاعی موجودگی کو مضبوط بنائے گا، جس سے خطے میں پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دفاعی صنعت، بالخصوص ایئرکرافٹ اور تربیتی طیاروں کی تیاری کرنے والے اداروں کو عالمی منڈی میں مزید مواقع میسر آئیں گے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنی دفاعی صنعت کو خود کفیل بنانے اور عالمی سطح پر برآمدات بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کی اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جو مستقبل میں مزید ممالک کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
پاکستان لیبیا کے اس دفاعی معاہدے نے دفاع، معیشت سمیت بہت سے امور پر دوررس نتائج حاصل ہوں گے۔
امریکا کا پاکستان کو ایف 16 اپ گریڈ پارٹس کی فروخت کی منظوری
