پاکستان کے تازہ ترین سروے میں پولیس، (پروکیورمنٹ) اور عدلیہ کرپشن کی فہرست میں سرفہرست
سروے کے مطابق 24 فیصد شرکاء نے پولیس کو سب سے زیادہ کرپٹ ادارہ قرار دیا، جبکہ پنجاب میں یہ تاثر سب سے زیادہ یعنی 34 فیصد رہا۔ ٹینڈر اور پروکیورمنٹ کے عمل کو 16 فیصد کے ساتھ دوسرا سب سے کرپٹ شعبہ سمجھا گیا، جبکہ عدلیہ 14 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
ان مستقل خدشات کے باوجود سروے میں معاشی استحکام کے احساس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ 40 فیصد شرکاء نے جزوی طور پر اور 18 فیصد نے پوری طرح اس بات سے اتفاق کیا کہ حکومت نے معیشت کو کسی حد تک مستحکم کیا ہے، جس کا سہرا آئی ایم ایف معاہدے اور پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کو دیا گیا۔ تاہم معاشی دباؤ برقرار ہے، کیونکہ 57 فیصد شرکاء نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران ان کی خریداری کی صلاحیت میں کمی ہوئی ہے، جبکہ 43 فیصد نے اضافہ رپورٹ کیا۔
رشوت کے حوالے سے سروے میں معلوم ہوا کہ گزشتہ 12 ماہ میں 66 فیصد شہریوں نے پبلک سروسز حاصل کرنے کے لیے کوئی رشوت نہیں دی۔ اس کے باوجود علاقائی فرق برقرار ہیں: سندھ میں رشوت ستانی کی شرح سب سے زیادہ 46 فیصد رہی، اس کے بعد پنجاب 39 فیصد، بلوچستان 31 فیصد اور خیبر پختونخوا 20 فیصد کے ساتھ رپورٹ ہوا۔
انسدادِ بدعنوانی کے اقدامات سے عوامی ناراضگی اب بھی انتہائی زیادہ ہے، کیونکہ 77 فیصد شرکاء نے حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ سب سے زیادہ ناراضگی بلوچستان میں 80 فیصد رہی، اس کے بعد پنجاب میں 78 فیصد، خیبر پختونخوا میں 75 فیصد اور سندھ میں بھی 75 فیصد۔