پاکستان میں موٹاپے میں اضافہ ایک سنگین خطرہ ، شوگر اور دل کے امراض میں تیزی

0

ملتان میں موٹاپے کے جدید علاج پر منعقدہ میڈیکل کانفرنس

پاکستان میں موٹاپے میں اضافہ ایک سنگین خطرہ بن گیا

پاکستان میں موٹاپا تیزی سے بڑھنے لگا، شوگر اور دل کے امراض میں خطرناک اضافہ: ڈبلیو ایچ او

📍 ملتان میں موٹاپے کے جدید علاج پر قومی کانفرنس

ملتان (نمائندہ خصوصی) — ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق پاکستان میں موٹاپے کے شکار افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دل کے امراض جیسے خطرناک مسائل بھی تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا استعمال اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں موٹاپے کی بنیادی وجوہات ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کے صحت کے نظام پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

موٹاپے کے بڑھتے ہوئے مسئلے اور اس سے جڑی بیماریوں کے مؤثر علاج پر تبادلۂ خیال کے لیے ملتان کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک اہم میڈیکل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر سے نامور ڈاکٹرز، ماہر غذائیت، اینڈوکرائنولوجسٹ اور کارڈیالوجسٹ نے شرکت کی۔

کانفرنس کا مقصد ڈاکٹروں کو موٹاپے کے جدید اور سائنسی علاج سے آگاہ کرنا تھا تاکہ مریضوں کا علاج عالمی تحقیق اور جدید میڈیکل گائیڈ لائنز کے مطابق ممکن بنایا جا سکے۔

کانفرنس کے دوران مختلف سیشنز منعقد کیے گئے جن میں ماہرین نے درج ذیل موضوعات پر تفصیلی بریفنگ دی:

  • موٹاپے اور شوگر کے درمیان تعلق

  • بلڈ پریشر اور کولیسٹرول پر موٹاپے کے اثرات

  • جدید ادویات اور تھراپیز

  • طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے وزن میں کمی

  • سرجیکل اور نان سرجیکل علاج

  • بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی بڑھتی شرح

ماہرین کا کہنا تھا کہ موٹاپا صرف وزن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ بیماری ہے، جس کا علاج جامع حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں موٹاپا ایک خاموش وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے نہ صرف جدید علاج بلکہ عوامی آگاہی، حکومتی پالیسی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ایسی کانفرنسز ڈاکٹرز کو جدید تحقیق سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جس کا فائدہ بالآخر مریضوں کو پہنچے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *