ہوش میں آو ورنہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاو گے چین کا اسرائیل کو سخت انتباہ
ہوش میں آؤ، ورنہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤ گے
چین کا اسرائیل کو انتباہ
اسرائیل نے حال ہی میں چین کو تنبیہ کی تھی، جس پر بیجنگ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دجالی چوہے کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہے۔ چینی سفارت خانے نے اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ بوعز توبوروفسکی کی تائیوان آمد پر خبردار کیا کہ اگر اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تو وہ گرے گا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ (اسرائیل میں چینی سفارتخانے کا آفیشل بیان)
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے الزام لگایا کہ چین اسرائیل کے خلاف معلوماتی محاصرہ کر رہا ہے اور ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام اور ڈرون فراہم کر رہا ہے، جس سے اسرائیل کی آئندہ کسی بھی ممکنہ جنگ میں کارروائی مشکل اور خطرناک ہوسکتی ہے۔ (یروشلم پوسٹ)
تجزیہ کار عدنان الروسان کے مطابق اسرائیل نے عرب دنیا میں کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد خود کو عالمی طاقت کا مالک سمجھ لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین عالمی صنعتی و اقتصادی طاقت میں سب سے آگے ہے اور اسرائیل اس کے سامنے محض ایک معمولی کھلاڑی ہے۔ ایک “نرمل مچھلی جسے سمندر کے طوفان میں بہا دیا جائے” کے مترادف۔
چین نے واضح کر دیا ہے کہ تائیوان اس کی سرخ لکیر ہے اور عالمی طاقت کے توازن میں اسرائیل جیسی ریاست کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان حالیہ گفتگو اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے، جہاں ٹرمپ معاشی معاملات پر زور دیتا رہا اور چینی صدر نے تائیوان کی اہمیت اور چین کی پوزیشن کو دوہرایا: “تائیوان ہمارا ہے اور رہے گا”۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اسرائیل مسلم ممالک کے سامنے شیر بنتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں، خاص طور پر چین جیسے ملک کے سامنے اس کی بولتی بند ہوجاتی ہے۔ اس پس منظر میں ایران، ترکی، شام، حزب اللہ اور ح۔م۔اس آئندہ ممکنہ جنگ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ موجودہ کشیدگی شاید حقیقی جنگ کا آغاز نہ ہو، لیکن آنے والے دن مزید بڑے عالمی اور علاقائی تنازعات کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ تاہم چینی سخت موقف اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ عالمی اور خطے کی طاقتوں کے توازن کو غلط انداز میں نہ پرکھے اور چین جیسے ملک کے سامنے اپنی چھوٹی حیثیت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔