ایئر انڈیا اور برٹش ایئرویز کے بعد پی آئی اے کی نجکاری: قومی بوجھ سے جدید ایئرلائن تک کا سفر؟

0

پی آئی اے کی نجکاری ملکی معیشت پر بوجھ کم کرنے کا باعث

پی آئی اے کی نجکاری:

دنیا بھر میں سرکاری اداروں کی نجکاری ایک متنازع مگر ناگزیر پالیسی سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر جب کوئی ادارہ مسلسل خسارے میں جا کر قومی خزانے پر بوجھ بن جائے۔ بھارت کی ایئر انڈیا اور برطانیہ کی برٹش ایئرویز اس کی واضح مثالیں ہیں، جو کبھی “سفید ہاتھی” کہلاتی تھیں مگر نجکاری کے بعد کامیاب عالمی برانڈز میں تبدیل ہو گئیں۔ اب پاکستان میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کی نجکاری بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔

ایئر انڈیا کئی دہائیوں تک بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا مالی مسئلہ بنی رہی۔ 2009 سے 2020 کے دوران ایئر انڈیا مسلسل خسارے میں رہی اور بھارتی حکومت کو ہر سال اربوں ڈالر کے بیل آؤٹ پیکجز دینا پڑے۔ شدید تنقید کے باوجود، 2022 میں بھارتی حکومت نے ایئر انڈیا کو ٹاٹا گروپ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نجکاری کے بعد ایئر انڈیا اب بھی ایک بھارتی کمپنی ہے، مگر نجی انتظامیہ کے تحت جدید خطوط پر چل رہی ہے۔ آج ایئر انڈیا تیزی سے جدید طیاروں، بہتر سروس اور عالمی مسابقت کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ بھارتی حکومت وہ رقم اب ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر رہی ہے جو پہلے خسارے پورے کرنے میں ضائع ہو رہی تھی۔

اسی طرح برطانیہ کی برٹش ایئرویز بھی 1970 اور 1980 کی دہائی میں قومی خزانے پر بوجھ بن چکی تھی۔ حکومتِ برطانیہ نے ایک سخت مگر فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے 1987 میں برٹش ایئرویز کی نجکاری کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی برسوں میں یہ ادارہ منافع بخش بن گیا اور آج دنیا کی بڑی اور معتبر ایئرلائنز میں شمار ہوتا ہے۔ نجکاری کے باوجود برٹش ایئرویز آج بھی برطانوی شناخت رکھتی ہے، مگر انتظامی آزادی نے اسے عالمی برانڈ میں بدل دیا۔

پاکستان میں پی آئی اے کبھی قومی فخر سمجھی جاتی تھی، مگر وقت کے ساتھ یہ بھی “سفید ہاتھی” بن گئی۔ ایک ایسا ملک جو قرض لے کر اپنی معیشت چلا رہا ہو، اس کے لیے ہر سال اربوں روپے کے خسارے برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔ صرف گزشتہ پانچ سالوں پر نظر ڈالیں تو:

  • 2019: تقریباً 52 ارب روپے کا خسارہ

  • 2020: کووِڈ کے باعث 34 ارب روپے کا خسارہ

  • 2021: 25 ارب روپے کا خسارہ

  • 2022: ایندھن اور انتظامی بحران کے باعث 67 ارب روپے کا خسارہ

  • 2023–2024: کاغذی منافع کے باوجود آپریشنل خسارہ برقرار

ہر حکومت پی آئی اے کی نجکاری کا اعلان کرتی رہی، مگر سیاسی دباؤ اور نام نہاد تنقید کے خوف سے عملی قدم نہ اٹھایا جا سکا۔ حتیٰ کہ عمران خان کے دور میں بھی نجکاری کمیشن کے ساتھ مشاورت ہوئی، مگر فیصلہ مؤخر ہوتا رہا۔

آخرکار موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو نجکاری کے ذریعے ایک پاکستانی سرمایہ کار کے حوالے کرنے کا بہادرانہ فیصلہ کیا۔ یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ جیسے ایئر انڈیا نجکاری کے بعد بھی بھارتی کمپنی ہے اور برٹش ایئرویز برطانوی شناخت رکھتی ہے، ویسے ہی پی آئی اے بھی پاکستان کی قومی ایئرلائن رہے گی، مگر انتظامی کنٹرول نجی شعبے کے پاس ہوگا۔

البتہ اگر پی آئی اے کسی غیر ملکی کمپنی کو فروخت کی جاتی تو اس کی قومی شناخت ختم ہونے کا خدشہ ضرور ہوتا، جو عوام کے لیے تکلیف دہ ہوتا۔ نجکاری کا مقصد قومی اثاثے بیچنا نہیں بلکہ انہیں قومی بوجھ سے نکال کر منافع بخش بنانا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ نجکاری میں نقصان کیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مسلسل خسارہ قومی مفاد میں ہے یا اصلاحات کے ذریعے اداروں کو خودمختار بنانا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ درست نجکاری، شفاف نگرانی کے ساتھ، قومی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
تحریر: حجاب رندھاوا

پی آئی اے کی نجکاری میں بڑی پیش رفت، عارف حبیب کنسورشیم نے بولی جیت لی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *